بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ


Originally published on Dunya News Blog

گزرے رمانوں کی بات ہے، ایک گاؤں تھا۔ جس میں لوگ رہا کرتے تھے۔ ہر کلاسیکل کہانی کی طرح اس گاؤں میں بھی ایک چوہدری صاحب کی حویلی تھی، جو فی سبیل الله تمام اہلِ علاقہ سے بھتہ وصول کرتے، اپنی من مانی کرتے۔ جس سے دل کرتا الجھتے، جس پہ چاہتے الزام دھرتے۔ تھانہ کچہری بھی اپنی اور پنجائیت بھی اپنی۔ غرضیکہ ایک مکمل ولن صفت چوہدری صاحب تھے۔ اسی گاؤں میں کچھ گھر غریبوں مسکنیوں کے بھی تھے۔ غریبوں نے کبوتر پال رکھے تھے۔ بڑے چوہدری صاحب کا محبوب تین مشغلہ انکے کبوتروں کا شکار ہوتا۔ لاکھ پیچ و تاب کھانے اور تلملانے کے باوجود کوئی چوہدری صاحب کے سامنے جا کر احتجاج کی ہمت نہ کرتا، انکے مرتبے، رعب اور دبدبے سے ڈرتا اور اسی وجہ سے چوہدری صاحب سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہتے، انکی ہاں میں ہاں ملاتے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ چند سال بعد بڑے چوہدری صاحب چل بسے، مسکینوں نے اپنے گھر میں انکو خوب گالیاں نکالیں اور اپنے تئیں بہت ہمت والے بن گئے۔ چوہدری صاحب کے جس جانشین نے مسندِ اقتدار سنبھالا وہ بڑے صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا، وہ کبوتروں کے انڈوں سے نکلنے کا انتظار ہی نہ کرتا اور مسکینوں کے گھروں میں جا جا کر گھونسلوں سے انڈے ہی گرا گرا کر توڑ دیتا، اور الٹا مسکینوں کو سخت ڈانٹ بھی پلاتا۔ خیر، وقت کا پہیہ چلتا رہا، حتیٰ کہ اس چوہدری صاحب کا وقت بھی ختم ہوا۔ مسکین جو بہت اکتائے بیٹھے تھے، ایک بار پھر اکٹھے ہوئے، جوش ولولے کیساتھ پرانے عہد دہرائے گئے، انکے سیانوں نے پیشین گوئیاں کرنی شروع کردیں کہ فلانا بیٹا اگر سردار بنا تو ہمارا ہمدرد ہوگا اور کچھ نے کہا نہیں وہ نہیں دوسرا ہمارا والی وارث ہوگا، اسی اثناء میں ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے کہا، اوئے عقل کے اندھو، تمھیں اتنی نسلوں سے آج تک یہ اندازہ نہیں ہوا کہ انکے گھر کا جو بھی سردار ہوگا، تھمارا رکھوالا اور والی کبھی بھی نہ ہوگا، بلکہ پچھلے سے بڑھ کر ہی ہوگا ظلم و استبداد میں، خیر سیانے تو سیانے ہیں، انہوں نے بزرگ کی ایک نہ مانی اور لگے رہے سیان-پتی جھاڑنے۔

Obama Vs Romney
پنڈ کا نیا چوہدری کون؟

اب ذرا اسی قصے کو امریکی صدارتی الیکشن کے حوالے سے دیکھیں اور اندازہ کریں کہ کلنٹن، بش اور پھر اوبامہ ہمارے کتنے خیر خواہ رہے ہیں۔ اور رومنی یا اوبامہ میں سے کوئی بھی امریکی صدر بنے ہمارے لئے وہ اس گاؤں کا ظالم چوہدری ہی ہوگا، جسکی پنجائیت اپنی، تھانہ کچہری اپنا، اور شکار کا شوق، شکار بھی ہم مسکینوں کا! تو اب میں اپنے معزز میڈیا سے، اور اپنے انتہائی قابل تجزیہ نگاروں اور ان محبِ وطن پاکستانیوں سے جو صرف اس آس پر دعائیں کررہےہیں کہ اگر رومنی یا اوبامہ آئے گا تو ویزہ پالیسی نرم ہوگی یا پاکستان کے لیئے بہتری ہوگی اور انکو امیگریشن کا چانس مل سکے گا، پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ بھایئو، انکلو دوستو، کیا معنی آپکے تجزیے اور دعائیں؟ لوگ ایک دوسرے سے ایسے پوچھ رہے ہیں کہ آپ کس کو فالو کررہے ہو جیسے اوبامہ اور رومنی حلقہ این-اے 56، روالپنڈی سے الیکشن لڑرہے ہوں، اور ابھی وائیٹ ہاؤس سے “جیئے بھٹو” کے فلک شگاف نعرے بلند ہونگے۔ یا جیتنے والا امیدوار حلف اٹھاتے ہی خود کو مسلم امہ کا رکھوالا کہہ کر اپنے نام سے قبل “امیر المومنین” کا لقب لگائے گا۔
میرے پیارو، پہلی بات تو یہ ہے کہ ‘پاویں سارا پنڈ وی مر جاوے، کمہار دے منڈے نوں کدے چوہدراہٹ نئیں لبنی’ اور جو چوہدری سردار بنے گا، وہ چوہدریوں کے حقوق کا ضامن اور محافظ ہوگا، ہمارا نہیں۔ تو آپ خوامخواہ بیگانی شادی میں دیوانے مت بنیں، وقت بچائیں اپنے لئے قوم کیلئے۔ اور روسی ادیب سلوگب کا وہ افسانہ یاد کریں جس میں چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کو تڑی لگاتی ہے کہ ہمارے حقوق یکساں سے، تم مجھے نہیں کھا سکتی، تو بڑی مچھلی میں جواب دیا، اچھا، اگر تم مجھے کھا سکتی ہو تو تم کھا لو، اور اخیر میں چھوٹی مچھلی نے خود عرض کی بڑی مچھلی سے کہ بہن مجھے کھالے۔ ہم بجائے بڑی مچھلی سے پنگا کرنے کہ، اس سے دور ہی بھلے، اسکی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی۔ اللٰؑہ آپ پر، مجھ پر، اور ہم سب پر اپنی رحمت فرمائے۔ آمین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s