Musharraf: Handle with Care


Although elections are just around the corner but everything else is just the same as months ago with no electricity, CNG and food etc, yet people and media going all crazy over Musharraf’s case as if his ‘execution’ is the only solution to all our problems.

People have their emotions, respect that, but we need to understand, that as a nation we are going through testing times these days. IN18_MUSHARRAF_1432038f For the first time in history of Pakistan a civilian government has completed its term successfully, handed over to interim government and going for General Elections in anticipation of being succeeded by another civilian democratic setup. Many ‘unseen’ forces however, still are trying to sabotage the effort and postpone the elections for good.

Secondly for the first time in Pakistan and probably in history of world a dictator is being summoned by an independent judiciary and is under house-arrest by civilian forces (opinions may differ).

To many, this might be the victory or even beyond but things aren’t as simple as they look. Especially this Musharraf issue is a very delicate one. It’s not ‘Pakistan Vs. Pak Army’ this case is between Pakistan and an ex-dictator who suspended the law twice, declared emergency, allegedly gave way to all the problems we have these days, jeopardize a 2/3rd majority government and the list goes on.

Nawaz Sharif who could have been his greatest enemy pushing the court for capital punishment came up with a very balanced statement and clarified it’s nothing against the Pak Army but an individual who happens to be a retired general.

Army has been very patient so far, not persuading not taking sides, but our media and social media constantly trying to pretend as if it’s Judiciary against the Army which gives out negative vibes and might persuade army to take notice for its stakes are the highest in this case. img_606X341_1804-m-pakistan-musharraf-arrest-RTXYP0Z

Yes true, no one’s above the law but there are certain protocols that need to be taken care of when you are dealing with an individual of this stature and class. This so called independent media was given birth and nourished in Musharraf’s tenure, give credit where it’s due. Even convicted prisoners have rights which Mr. Musharraf doesn’t seem to have.

In my humble opinion, media and political parties should not butt-in the legal process and give it the wrong meaning and shape; it’s a history in the making and let the judiciary deal with it on merit.

Musharraf is a parcel received with clear warning: handle with care. If this case is mishandled at any level, it might hurt our dream of witnessing Pakistan prosper democratically.

Advertisements

انتخابی منشور


آپ نے نہاری پیک کروائی اور دکان سے نکلنے ہی والے ہیں کہ ایک نامانوس سی آواز کانوں میں گھسے گی ‘پائی جان شاپر ڈبل کرالو نئیں تے رُڑ جائیگی جے” ایسے بہت سے خدائی خدمتگار ہر روز متعدد بار آپکو کسی نہ کسی معاملے میں مفید مشورہ دیتے ملیں گے وہ بھی فائدے نقصان سے بے نیاز۔ پاکستان میں اللہ کے فضل و کرم سے ڈھیر سارے سیانے رہتے ہیں، اکثریت ان میں سے ویلے ہیں تو بس بیٹھے بیٹھے عوام کی فلاح و بہبود کے واسطے خونِ جگر جلاتے ہیں، تدبیریں کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو عرفِ عام میں سیاستدان کہتے ہیں، اور کچھ کریں نہ کریں شاپر ضرور ڈبل کرواتے ہیں۔

 Elections 2013سیاست ہمارے ملک میں جنسِ ارزاں بن چکی ہے۔ آئیڈیالوجی کے نام پر ایسی ایسی سب-اسٹینڈرڈ اشیاء مارکیٹ میں برائے فروخت ہیں کہ خدا کی پناہ۔ بس دکان اچھی سجا لی ہے، رنگ برنگی جھنڈیاں بھی لٹکالی ہیں اور ہر آنیوالے گاہک کو ‘چائے یا ٹھنڈا’ بھی پوچھ لیتے ہیں تو بیچارے خریدار بھی دامِ شیندن میں آجاتے ہیں اور وہی خرید کر کارِ ہستی چلاتے ہیں۔

انتخابات قریب ہیں اور اس سارے عمل کو کیا تشبیہ دی جائے، بڑا سوچا میں نے مگر کچھ نہ ملا۔ البتہ سبزی منڈی جانے کا منظر یاد آگیا۔آپ سب کبھی نہ کبھی تو سبزی منڈی گئے ہی ہونگے۔ وہاں سب سٹالز مختلف کیٹگریز کے حساب سے لگے ہوتے ہیں۔ آلو پیاز کا لاگ سیکشن، پھل فروٹ کا الگ سیکشن، سلاد کا الگ سیکشن اور دیگر سبزیاں جابجا سٹالز پہ بکھری پڑیں۔ آپ کو دیکھتے ہی سب دکاندار یک زباں ہوکر آوازیں لگاتے ہیں کوئی گا بجا کر، کوئی ترنم سے، کوئی ٹیلیفونک بانگیں دیتا ہے۔ آلو لے لو، کھیرے لے لو، ٹنڈے لے لو، نمبو لے لو، کیلا لے لو، تربوز لے لو۔ بہت سے دکاندار تو ایک سی چیز ہی بیچ رہے ہوتے ہیں مگر مختلف ادا سے۔ جیسے صرف اگر آلو پیاز کو ہی لے لیں، بیسیوں سٹالز پر ویسے ہی آلو پیاز بک رہے ہوں گے۔ کوئی قیمت ایسے بیان کریگا کہ آپ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ‘مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے’ کچھ اسکے ‘امپورٹڈ’ ہونے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرینگے، اور کچھ خالی خولی شخصی گرنٹیاں دیں کر کام چلاتے ہیں۔ اب مجبوری ہماری یہ ہوئی کہ کچھ نہ کچھ تو بازار سے لے کر ہی  جانا ہے ورنہ جو کچھڑی بالجبر  پکتی ہے وہ 9-10 سال تو کہیں جاتی نئیں۔ تو آپ اپنی دانست کے مطابق ‘دی بیسٹ’ مال خریدتے ہیں، حالانکہ آلو پیاز تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں، ایک ہی زمین سے اگتے ہیں، قیمت بھی سب کی کم و بیش ایک سی ، بس بیچنے والے کا انداز جدا۔

5-years-of-democracy بالکل یہی حال ہمارے یہاں انتخابات کا ہے۔ سب سیاسی دکاندار اپنا مال سجائے بیٹھے ہیں، مال کم و بیش ایک جیسا ہی ، افادیت و خصوصیات بھی ایک سی اور ہماری مجبوری بھی وہی کہ انہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔ ہاں کچھ شعبدہ باز البتہ پرانے باسی مال پر نیا ‘ترونکا’ لگا کر ‘نیا’ کہہ کر لائے ہیں  سرِ بازار۔ اب ذرا غور کریں تو سبھی سیاسی جماعتوں کا نعرہ جدا جدا مگر ہدف و مقصد ایک ہے، یعنی اقتدار۔ کوئی اپنے ماضی کے کارناموں کو دہرا رہا ہے تو کوئی وعدہ ء فردا کی صدا لگا رہا ہے،  کوئی بنامِ شریعت فروخت کررہا ہے تو کوئی روٹی کپڑا و مکان میں لپٹا شہیدوں کا خوں دکھا رہا ہے۔ کبھی نہ کبھی ہم ان سب دکانوں سے کچھ نہ کچھ خرید بیٹھے ہیں، ان سب کا مال ٹرائیڈ اینڈ ٹیسٹڈ ہے۔ ہاں اس بار اک نیا دکاندار آیا ہے جس نے باقی سٹالز سے سامان چن چن کر اپنی دکان سجائی ہے اور نئے نعرے و جوش و ولولے کیساتھ سرِ بازار می رقصم ہے۔

democracy Pakistan مجبوری انکی بھی ہے کہ یہیں بیچنا ہے باہر کوئی خریدتا نہیں اور ہماری یہ مجبوری کے باہر سے خرید نہیں سکتے جا کر، خدارا  ووٹ ڈالنے سے بس ایک بار یہ ضرور سوچ لینا کہ یہ موقع بار بار نہیں ملنا، ووٹ امانت ہے، اس میں خیانت نہ کیجئے گا کہ خمیازہ پوری قوم بھگتے گی، اور ذاتی پسند ناپسند اور میڈیائی خبروں کی بجائے تمام پارٹیز کے انتخابی منشور کو پڑھ کر اور اسے ڈیلیور کرنے کی قابلیت کے حساب سے ووٹ دیجئے گا،کہیں پھر سے خدا نخواستہ جبری کچھڑی نہ پک جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

۔

غزل | یوں فراموش کروں تم کو کہ عمر بھر یاد آ نہ سکو


یوں فراموش کروں تم کو کہ عمر بھر یاد آ نہ سکو
اور  مجھ  کو جو بھو لنا  چاہو تو پھر بھلا نہ سکو
نہ  اس  قدر  بے  رخی  سے  پیش  آؤ  آج  کہ  کل
سرِ  راہ  گزر  ملو  کہیں  تو نظر بھی ملا  نہ سکو
ہم  کو  گلہ  نہیں  مگر  پندارِ محبت کی  ہے یہ تمنا
یاد  ہم  دلائیں  عہدِ  وفا یوں کہ  تم  جٹھلا  نہ  سکو
اصلِ   محبت   کچھ   نہیں  ،  بجز  وارفتگی ء  دل
ہم  نہیں ، غیر  سے  بھی  ممکن  ہے  نبھا نہ  سکو
نئے سفر پہ  نکلے ہو ، واپسی  کا رستہ کھلا رکھنا
کہ راہگزر دشوار ملے اور لوٹ کر بھی جا نہ سکو

تبدیلی


نوٹ: اس پوسٹ سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی ایجنڈے کی ترویج مطلوب ہے۔  الیکشن کی آمد آمد ہے سو ہم نے بھی سوچا بہتی گنگا میں اپنی رائے سے ہاتھ دھو لیں!
Pakistan politics
کافی سال پہلے یعنی اپنے بچپن میں سیاسی پسِ منظر کی ایک’بین شدہ’ کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا جس میں پردہ نشینوں کی درپردہ نشست و برخاست وغیرہ کا غیر پارلیمانی احاطہ کیا گیا تھا، ایک شعر جو صاحبِ کتاب نے سرِورق پہ لکھا تھا اب تک یاد ہے
                      ؎   میرے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھ
                           طوائف گھری  ہے  تماش بینوں  میں
اور یقین جانئے، آجکل یہ طوائف بڑی مشکل میں ہے کیونکہ مجرے کا منطقی انجام یعنی الیکشن قریب ہیں اور ہر تماش بین طوائف کو اپنی جانب متوجہ کرنیکے لیئے ہر ممکن اقدام کررہا ہے، پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے تاکہ دی اینڈ میں وہ  ہیرؤین کو اپنی بانہوں میں سمیٹے حجلہِ عروسی یعنی وزیراعظم ہاوس  کی جانب مسکراتا ہوا جائے اور  اپنے وقت کا ‘بہترین استعمال’ کرے! یہ وہی تماش بین ہیں جو رات گزارنے کے بعد صبح کو طوائف کی شکل تک نہیں پہچانتے، مگر طوائف کے نصیب میں ہر رات انہی میں سے کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔ طوائف عوام، رات ‘جمہوری دور’ تماش بین سیاستدان۔ اس وقت ملکی سیاست ایک ٹاپ سیلنگ سٹوری بنی ہوئی ہے، ہٹ موویز والے تمام تر مصالحہ جات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ مشرف کی واپسی سے لیکر طاہر القادری کی روپوشی، عمران خان صاحب کی لاہور فتح کرنیکی ڈینگیں مار کر وہاں سے کاغذات ہی نہ جمع کروانے سے لیکر میرا کے الیکشن لڑنے کے اعلان تک، نجم سیٹھی کی وزارتِ اعلیٰ سے لیکر  کاغذاتِ نامزدگی کی نامنظوریوں تک،  شاہ محمود صاحب کے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات جمع کروانا اور میاں برادران کی نااہلی سے لیکر سیاسی شہادت کی پاسیبلٹی سے گھبرا ئے بلاول بھٹو زرداری کا دبئی سے الیکشن کیمپین کو لیڈ کرنا، الطاف بھائی کا وہی “رُسی رن” ورگہ وکھرا موقف اور سیاسی مبصرین کی الیکشن کے انعقاد پر تشویش اور حد سے تجاوز کرتی ریٹرننگ آفسرز کی تماش بینیاں، تمام مصالحے بدرجہ اتم موجود، کب کون ذائقہ دے جائے کہہ نئیں سکتے۔
پوسٹ کا ٹائٹل تبدیلی ہے، یاد رہے یہ عمران خان صاحب والی سونامی-تبدیلی نہیں بلکہ “اصلی” تبدیلی ہے۔ جیسے موسم کی تبدیلی، آب و ہوا کی تبدیلی وغیرہ وغیرہ۔ خان صاحب نئے چہروں والی تبدیلی کی جو بات کرتے ہیں اس سیاسی تبدیلی کے بارے تو مرحوم بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان صاحب کیا خوب فرما گئے ہیں کہ نئے چہرے صرف فلموں میں جچتے ہیں، دیکھئے نا اتنے خان صاحب کے  چانسسز نہیں جتنی انکی فلم ‘کپتان’ کے ہٹ ہونے کے چانسسز ہیں۔ عمران خان کے سیاست میں آنے سے البتہ ایک عملی تبدیلی ضرور آئی، بالکل ویسی جیسے کسی نکموں کی کلاس میں کوئی خوبرو دوشیزہ آجائے تو “امپریشن” جمانے کیلئے چند سرپھرے کوشش ضرور کرتے ہیں ‘ٹاپ’ کرنے کی۔
جب سے خان صاحب کا سونامی پارٹ ون آیا ملکی سیاست میں واقعی ہلچل مچ گئی۔ اس وقت ہم انگریزی میں ڈینگ مارا کرتے تھے سونامی پارٹ ٹو تک ایک تبدیلی تو آئی کہ ہم اردو میں چولانے لگے۔ مجھے نئیں پتہ کس سیاسی جماعت کے کیا اغراض و مقاصد ہیں، میں تو صرف ان شعبدہ بازوں کے بیانات سے محظوظ ہوتا ہوں اور اردگرد لوگوں کا ردعمل دیکھتا ہوں۔ سونامی کا نام اس لیئے لیا کہ پہلے تو سب ٹھیک چل رہا تھا مگر خان صاحب نے آکر سیاسی منظر نامہ تھوڑا اینٹرٹینیگ بنادیا۔ ورنہ کہیں شیر کی دھاڑ تھی، سائیکل تیار تھی، لوٹوں کی بھر مار تھی،  پتنگ کی پکار تھی  مگر پھر بھی ‘ایک زرداری سب پہ بھاری’ تھا۔
پچھلے سال تک کافی دھواں دار بیٹنگ کرتے رہے، مگر اب لگ رہا ہے شاید اچھا دی-اینڈ نہ کرپائیں، کافی وکٹیں گنوا چکے ہیں اور اپنی غلطی سے کئی کھلاڑی رن آؤٹ بھی کروا چکے، اب دیکھنا یہ ہے کہ رہی سہی ٹیم کیساتھ کلین سویپ کرتے ہیں یا کلین بولڈ ہوتے ہیں ۔ پہلے دیگر سیاسی جماعتوں نے ‘تبدیلی’ کا توا لگایا اور اب عوام بھی کافی حد تک اس کارِ خیر میں شریک ہوگئی ہے۔ مثلاً خان صاحب کا وہ مشہور ڈائیلاگ ‘تبدیلی آ نہیں رہی، آچکی ہے’ کو پاکستان کی ‘یوتھ’ نے کافی بہتر انداز میں یوزا ہے، کلاس رومز، گلی محلے اور آفسز میں “وہ” کو ‘تبدیلی’ سے ریپلیس دیا گیا ہے اور اب یہی کہا جاتا ہے کہ “تبدیلی آگئی ہے، آؤ ‘انقلاب’ لائیں”۔
نعرہ اچھا ہے مگر اقوامِ عالم پر نظر دوڑائیں تو امریکی صدر اوبامہ بھی یہی نعرہ لیکر آئے تھے اور دنیا گواہ ہے کیسی تبدیلی آئی کہ لہریں بہریں ہوگئیں، بہر صورت ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور کسی ایسے کو حکمرانی ملے جو واقعی میں سیاست نہیں ریاست بچانے والا ہو۔ کافی عرصہ پہلے انگریزی میں الیکشن پراسس بارے کچھ گذارشات پیش کی تھیں، اور حیرت انگیز طور پر کچھ پر عمل ہوتا بھی دکھائی دے رہا ہے مگر وہ ‘دودھ میں مینگنیں’ ڈال کر!