شاہی کاکا اور پاکستان


شاہی کاکا اور پاکستان.

Advertisements

شاہی کاکا اور پاکستان


ماہِ صیام الحمدللہ ملکِ خداد میں پوری آب و تاب اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہے۔ تمام ٹی وی و فلمی حاضر سروس و ریٹائرڈ ایکٹر و ایکٹرسس عوام الناس کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر  ہیں۔ اس صورتِ حال پہ میرؔ مرحوم کا وہ شعر یاد آتا ہے
؎   میرؔ  کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
        اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
یعنی جن کے توسط سے سال بھر  گناہوں کی پوٹلی بھرتے ہیں، رمضان المبارک میں انہی کے طفیل توبہ کرنی پڑتی ہے۔ ابھی کل حامد میر اور خود ساختہ سپہ سالارِ گفتار جناب زید حامد کے جھگڑے کا طنطہ اٹھا وا تھا جس میں اول الذکر نے موخر الذکر کو سُو کردیا تھا۔ سوشل میڈیا نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فریقین کی اچھی بینڈ بجائی۔ یہ قضیہ ابھی حل نہ ہوا کہ بلادِ برطانیہ سے “خوشخبری” کی نوید آئی۔ وہاں ابھی “کچھ” ہوا بھی نہیں تھا اور یہاں پاکستانی عوام میں خوشی کا سماں تھا جیسے کیٹ مڈلٹن انکی سگی خالہ ہے، کچھ تو ایسے بات کررہے تھے جیسے اس معاملے میں انکے زورِ بازو کو دخل ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت پنگے لینا  تو ہمارا پرانا وطیرہ ہے جیسا کہ امریکی صدارتی انتخاب کے موقع پر بھی ہم نے بیان کیا تھا۔ خیر، ذیل میں ملکہءعالیہ برطانیہ کو  بذریعہ خط بھیجی گئی مبارکباد  ہے، ملاحظہ ہو:-
“بخدمت جناب،
 ملکہ عالیہ،محترمہ الزبتھ دوم صاحبہ
سابقہ حاکمہ ہند و سندھ،
بعد بجا لینے کے کورنش و آداب، ملکہ محترمہ اللہ آپ کو اور لمبی زندگی دے  اور آپ کا اقبال بلند کرے (اور بقول ایک مرحوم بزرگ آپ اب صور پھونکوا کر ایک دفعہ ہی جانا)۔ آپ کے خاندان میں اضافے کی خبر سنی، یقین مانیں اتنی کوئی خوشی ہوئی کہ جس کی انتہاء نئیں، یہاں کوئی جمتا تو ہم منصوبہ بندی اور اخراجات کا طعنہ دے دے کر مار دیتے یا بول فلم کا سیکؤل بنادیتے، مگر چونکہ ملکہ عالیہ کی دوسری نسل کی پہلی خوشی ہے اس لیئے ہم بھی دل کھول کے خوشی مناتے ہیں کہ ہم بھی ماموں بنے ہیں۔ شام سے ہی سب زچہ بچہ کی خیریت کی دعائیں مانگنے لگ گئے تھے۔ اور یہ سن کر کہ کاکا ہوا ہے خوشی کو چار چاند لگ گئے۔ یقین نہ آئے تو آپ پاکستانی سوشل میڈیا دیکھ لیں۔ ہم نے کبھی سگی پھپھی کے گھر اولاد ہونے پر اتنی خوشی نئیں تھی منائی جتنی آپ کے یہاں ہونے کی منائی اور مٹھائی بھی بانٹی۔  عوام الناس تو کیا ذکر ہمارے دو چار اینکر تو فرطِ جذبات میں آپے سے باہر ہوگئے ساحر لودھی تو سیٹ پر ہی می رقصم اور لُڈی ڈال ڈال کر نیم بیہوش ہوگیا اور عامر لیاقت کاکے کی جنس پر شوخا ہوکر کہتا رہا “تکے لگاؤ مسلمانو تکے لگاؤ”۔ اور آپ جھنڈ اور عقیقہ ہونے دیں ہم یہاں ٹی وی پر کاکے کی شان میں باقاعدہ شوز کریں گے اور آپکے کاکے کو ہماری آنیوالی نسل کا آئیڈیل بنادیں گے۔ آپ کہیں تو “حسنِ کارکردگی” پر شہزادے شہزادی کو کوئی تمغہ وغیرہ عنایت کردیں؟ سرکاری طور پر پذیرائی کیلئے خان صاحب بھی وہیں ہیں، ملکی معاملات کو پسِ پشت ڈال کر جنابِ عالیہ کی خوشی دوبالا کرنے آئے ہیں فقط۔ آپ کاکے کو لے کر پاکستان آئیں ہم “بھٹو کی بیٹی آئی ہے” جیسا کوئی دلفریب گانا بھی چھوٹے حضور کی نظر کریں گے جیسے کہ “ملکہ کا کاکا آیا ہے” وغیرہ۔
اتنے خوش اور اپ ڈیٹڈ شاید وہاں کے ودھائی دینے والےکھسرے نہیں جتنے یہاں کے لوگ ہیں۔ ملکہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ کھسروں کے معاملے میں خیر  ہم بہت خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ ایسی ورائٹی کم ہی جگہ نصیب ہوتی ہے۔ ساحر لودھی جیسے سُشل اور شستہ پیس سے لیکر شفقت چیمہ جیسے فولادی اور مضبوط کھسرے مارکیٹ میں ارزاں نرخوں پر بکثرت دستیاب ہیں۔ آپ حکم کریں تو خوشی دوبالا کرنے کیلئے کچھ ‘نگ’ بھجوادیں، یا جو کئی سال پہلے بھیجا تھا اسی سے گزارہ چلائیں گے؟
ویسے تو آپ بذاتِ خود کافی سیانی بیانی ہیں اور دو تین نسلیں بھگتا چکی ہیں  اور کاکے کی نگہداشت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گی مگر، بعد از مبارکباد، چند ضروری گذارشات ہیں جو پاکستانی عوام کے بی-ہاف پر آپ کے گوش گذار کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہوں:
– آجکل جاڑے کا موسم ہے، آپکے یہاں ویسے بھی بڑی ٹھنڈ پڑتی ہے، کاکے کا خاص خیال رکھنا
– جھنڈ اور ختنے وغیرہ کسی اچھے نائی سے کروائے گا کہ بڑی نازک صورتحال ہے اور مستقبل کا سوال ہے
– کاکے کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائے گا اور پولیو کے قطرے تو پلوانا بالکل بھی نہ بھولنا
– دوست ہزار بھی کم، دشمن ایک بھی بہت، کاکے کو نظرِبد سے بچانے کا  کالا ٹیکہ لگائے رکھنا
– نام کا شخصیت پر بڑا اثر پڑتا ہے، نام  جلدی سے دیکھ بھال کر اچھا سا فلمی ٹائپ رکھئے گا، کب تک ہم کاکا کاکا کہتے رہیں گے
باقی یہ کہ ویسے تو ہم نے چشمِ تخیل سے کاکا دیکھ لیا ہے مگر آپ کی طرف سے کاکے کی فوٹووں کا انتظار ہے، اس خط کے جواب میں ترنت ارسال کیجئے۔ جوابی لفافہ ساتھ بھیج رہے ہیں۔اور کاکا جیسے ہی بڑا ہو اسکو ہمارا ضرور بتائے گا۔
والسلام،
پونڈوں کا طالب، اور
آپ کا خیر اندیش
پاکستانی میڈیا”

رمضان المبارک اور ویلی مائیاں


اس سال ماہ رمضان کا پھر سے گرم موسم نے دوبالا کردیا ہے اور اس میں حسبِ سابق واپڈا نے اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈالا ہے، اس پہ طرہ  یہ کہ پورا رمضان معروف مذہبی اسکالر (عنقریب شیخ الاسلام) ڈاکٹر عامر لیاقت حسین صاحب سحر و افطار میں بلاناغہ ٹی وی کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اس سال کی آنیاں جانیاں، پھرتیاں اور اچھل کود دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب میں ساحر لودھی کی بھٹکی روح آگئی ہے۔  یہ پوسٹ ان لوگوں کیلئے ہے جو رمضان المبارک میں سب سے آئٹم چیز ڈاکٹر صاحب کو گردانتے ہیں، یقیناً انکا واسطہ کسی ویلی مائی سے نہیں پڑا۔ ببل گم، کچی لسی اور ویلی مائیوں کو جتنا ودا لو ودتی جاتی ہے۔ یہ بالکل وہی مائیاں ہیں جنکے بارے وہ انگریزی کہاوت ہے کہ جب بولتی ہیں تو شیطان کمرے کی نکڑ میں بیٹھ کر چپ چاپ سنتا اور برابر نوٹس لیتا ہے۔

ایسی مائیاں ہر گلی محلے میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ ویسے تو حضرت خضر کی ہم عمرہونگی مگر بالوں کو رنگ کر کے سوہنے کپڑے پہن کر ماڈرن کڑیاں بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ عمر اور تجربے کے لحاظ سے تو وہ ہمارے بزرگوں کی بزرگ لگتی ہیں مگر ماننے سے انکاری کہ ‘خیالِ زُہد ابھی کہاں، ابھی تو میں جوان ہوں’۔  زیادہ تر ان میں سے ریٹائرڈ استانیاں ہوتی ہیں۔ شادی یا تو کرتی نہیں یا بھگتا چکی ہوتی ہیں، جس کسی کا خاوند بچا ہو وہ بیچارا یا تو بلادِ غیریہ میں اماں لیتا ہے یا تمام عمر محلے کا منیٹر بن کے رہتا ہے۔ عموماً گلی محلے کا ایک ہی سکول ہوتا ہے جہاں سے دادا پڑھا وہیں سے پوتا اور اتنی دراز عمر استانیاں ہوں تو عجب نہیں کہ باپ بیٹا ایک ہی استاد سے سبق پڑھیں اور نہ بھی پڑھیں تو جیسے ہر پیدا ہونے والا بچا بائی ڈیفالٹ ڈالروں کا مقروض ہوتا ہے ویسی ان کی عزت و تکریم کا بھی پیدائشی مفروض ہوتا ہے۔ بیشتر مائیاں بعد از ریٹائرمنٹ محلے میں فی سبیل اللہ بچوں کو ٹیوشن اور خواتین کو گھرگرہستی پڑھاتی ہیں اور یہ انکی انفارمیشن کا پرائمری سورس ہوتا ہے۔ ٹیوشن فیس کی بجائے گھریلو حالات پوچھتی ہیں محلے کی خان جنگیوں اور سردمہریوں پہ خصوصی نظر رکھتی ہیں۔ محلوں میں انکا رول کم و بیش وہی ہوتا ہے جو گاؤں دیہاتوں میں پنجائیت کا۔ بلاوجہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑائیں گی۔ انفارمیشن اور اپ ڈیٹڈ انفارمیشن بڑی ضروری ہوتی ہے۔ بقول شخصے انکا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے کہ کونسی خبر پہلے کس نے بریک کی بلکہ اکثر نے تو ڈائری بنائی ہوتی ہے جس میں پوائنٹس نوٹ کرتی ہیں اور شاید مہینہ وار جیتنے والی خوش نصیب کو باقی مائیاں ٹریٹ دیتی ہیں۔

انکے کمرے کی کوئی نہ کوئی کھڑکی باہر گلی میں ضرور کھلتی ہے اور مصداق اس شعر کہ “بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی گذر کے جائے کیوں” ہر آنے جانے والے پر مکمل نظررکھتی ہیں۔ گھر کا کام کاج ٹیوشن والے بچے بچیاں کردیتے ہیں یہ ان کو سبق دے کر ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی  کرتی ہیں اسی لیئے انہیں اکثر محلے میں چلنے والے افیئرز کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور اکثر رشتے بھی یہی  کرواتی ہیں۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہیں اور مہینوں پہلے ہی محلے کی آبادی میں مجوزہ اضافے کا عندیہ  بھی دے دیتی ہیں۔  ہم تو ایسی کھڑکیوں کو پولیس چوکی کہا کرتے تھے کہ اتنی انوسٹگیشن وہیں ہوتی ہے۔ انٹری ایگزٹ کا ٹائم برابر نوٹ ہوتا تھا اور کسی بھی قسم کی دیر سویر گھر میں رپورٹ ہوتی تھی۔ جب بھی کھڑکی کے سامنے سے گزرتے سوال آتا “ماں ستی اے کہ جاگدی پئی اے” پھپھو دا کی حال اے۔ رزلٹ آگیا؟ کتنے نمبر آئے؟ اتنے کم کیوں آئے، بشریٰ کی بیٹی کا تو اے گریڈ آیا ہے؟ آگے کہاں ایڈمیشن لے رہے ہو؟ کہاں جارے ہو؟ ذرا مجھے نلکی لا دینا سرخ رنگ کی اور تھوڑی دہی بھی اور ذرا سا دھنیا پودینا بھی اور دیکھنا نکڑ پہ پھل والا ہوا تو ایک خربوزہ پکڑ لانا۔ پیسے میں تمھاری اماں کو دے دونگی۔ ایسے میں ہر بچے کی کوشش ہوتی کہ یا تو ادھ بیٹھ کر چوکی کراس کرے یا بجلی کی تیزی سے گزرے کہ ریڈار کی زد میں نہ آسکے۔ محلے کا کوئی پڑھا لکھا بندہ ریڈار میں پھنس جائے تو انگریزی میں انٹرویو ضرور لیتیں۔ انگریزی بولنے میں کیا ملکہ حاصل تھا مگر ستیاناس جائے فرنگییوں کی ناقص زبان کا کہ استانی جی کی سپیڈ کے آگے انگریزی کے لفظ ختم ہوجاتے اور اکثر آواز کا اتار چڑھاؤ ایسا ہوجاتا جیسے سائیکل چلاتے ہوئے مفلر پہیے میں آجائے تو گلا رندھ جاتا ہے۔

ایک قدر ایسی تمام مائیوں میں مشترک ہوتی ہے جسے پنجابی میں ‘وارا’ لینا کہتے ہیں۔ یعنی جب دو عورتیں بات کررہی ہوں اور ایک زیادہ شاطر ہو اور دوسری کو بولنے کا موقع نہ دے تو اسکو وارا نہ لینے دینا کہتے ہیں۔ خواتین کے نزدیک آداب بحث کے سخت خلاف ہے یہ بات۔  اپنی اور اپنوں کی تعریف میں ماہر ہوتی ہیں اور زمین آسمان کے قلابے تو شاعر بھی ملا لیں یہ مریخ اور دوسری گلیکسیاں ملادیتی ہیں۔ انکے موڈ کی سمجھ نئیں آتی۔ سہیلیوں میں ہونگیں تو کبھی اپنوں کی ستم ظریفیاں اور کبھی غیروں کا تذکرہ اور اپنوں میں بیٹھیں گی تو سہیلیوں کی نظراندازیوں کے گلے۔ خیر، ان مائیوں کا حلقہء احباب چونکہ بہت وسیع ہوتا ہے اسی لیئے انکے پاس بے انتہاء کیس سٹڈیز ہوتی ہیں رشتوں سے لیکر بچوں اور خوشگوار زندگی سے لیکر طلاق کے قصوں، جن بھوتوں کی ہوشربا داستانوں سے لیکر ناگہانی آفات و بیماریوں کی باتیں۔ آپ کسی مرض کا نام لے کر دیکھ لیں وہ ان کو یا انکی کسی استانی کو یا اسکے خاندان میں کسی کو ہوچکا ہوگا۔ کثرتِ تعلیم و تجربے کے باعث سلیف میڈ ڈاکٹر بھی ہوتی ہیں اور موقع محل دیکھ کر مشورہ داغ دیتی ہیں۔   مثلاً کسی کو مسلسل تین چار دن سے گلے میں خراش کے سبب کھانسی ہے تو بجائے کھانسی شربت کا کہنے کے پہلے ایسی کوئی ہوشرباء داستان سنائیں گی کہ کیسے اسنکی کسی سہیلی کا جوان رشتہ دار معمولی سی لاپرواہی کے سبب سسک سسک کر کسمپرسی کی حالت میں دم توڑ گیا پھر انکشاف کریں گی کہ بیٹا تجھے ٹی بی ہے ، وقت سے پہلے علاج کروالے کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔ ان سب کی یادداشتیں بہت تیز ہوتی ہیں۔ اور اکثر انکی پٹاری ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے جو بچپنے میں آپ سے سرزد ہوئے اور وہ رہتی دنیا تک آپ کی بِستی کیلئے کافی ہیں۔ مثلاً محلے کا کوئی نیا شادی شدہ جوڑا دیکھ لیں تو فوراً بولیں گی ماشاء اللہ کتنی پیاری بیوی ملی ہے تو ایویں وہ سامنے والی کے  پیچھے پاگل ہوا پھرتا تھا، بہو اسکا خاص خیال رکھنا بڑا جھلا ہے یہ بچپن میں زپ بند کرتے اکثر نونو پھنسا لیتا تھا۔ اور کسی باپ بیٹے کو ساتھ دیکھ کر انہیں باپ کے بچپن کے ایسے قصے یاد آئیں گے جن سے وہ باپ آج اپنی اولاد کو منع کرتا ہے۔ مثلاً آپ نے صبح ہی اپنے بچے کی سرزنش کی کہ بیٹا بستر پہ پیشاب کرنا بری بات ہے اور سرِشام ہی شومئی قسمت محلے کی استانی نے پول کھول دیا کہ “بیٹا جب آپ کے بابا چھوٹے ہوتے تھے نہ تو روز بیڈ پہ سُوسُو کردیتے تھے’ بچہ معنی خیز نگاہوں سے باپ کی طرف دیکھتا ہے اور باپ نظریں ملانے قابل نئیں رہتا۔

زمانے بھر کو باتوں میں پورا کرکے انکی باتوں کی ایسی پریکٹس ہوچکی ہوتی ہے کہ سو باتیں فی سیکنڈ کی سپیڈ سے بولتی ہیں جس کو سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ بلکہ غالب گمان تو یہ ہے کہ اتنی سپیڈ سے انکے فرشتے بھی مکمل  نوٹ نہیں کرپاتے ہونگے اور بعد ازاں ان کی ڈائری سے دیکھ کر دائیں اور بائیں والی باتیں الگ الگ کرکے نوٹ کرتے ہونگے۔  انکی  وارا،  نہ لینے کی عادت بارے ایک تشویش یہ ہے کہ جنت میں جاکر فرشتوں کے کان کتریں گی اور وہاں بھی کسی کو وارا نہیں لینے دیں گی۔ وہاں البتہ گفتگو ایسی ہوا کرے گی “ارے تمھیں پتہ ہے میری جنت کے بغل سے دودھ کی نہر گذرتی ہے” جواب:”اس میں کیا بڑی بات ہے میری نند کی بھاوج کی دیورانی کے گھر کے اندر سے دودھ کی نہر گزرتی تھی مگر انہوں نے ڈئزاین بدلا تو بند کروا دی”۔  اب بھی ہم کسی ایسی کھڑکی سے گزرتے ہیں اور مانوس آواز نہیں پاتے تو دل بیٹھا جاتا ہے، بلاشبہ ایسی ویلی مائیاں محلوں کی شان ہوتی ہیں اور محلوں کی رونق اور تعلق داری کی ضامن ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے یہ ناپید ہورہی ہیں محلے بے رونقے اور انجان بنتے جارہے ہیں۔

عالم پناہ اور انمول رتن


the_emperor_bahadur_shah_ii_enthroned
کچھ روز قبل ہم نے کارپوریٹ ورلڈ کے شیر شاہ سوری کے بارے قلم تمیزی کی اور ان الفاظ پر بلاگ شریف کا خاتمہ بل خیر فرمایا کہ:
“آج یونہی موسم کی ادا دیکھ کر صاحب یاد آگئے، نجانے کہاں ہونگے اور کسکا ستیاناس کررہے ہونگے، بس ہم دعا گو ہیں کہ جہاں رہیں خوش رہیں ‘حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا’” تو کچھ دیرینہ دوستوں نے تھا، کو ہے، اور نئے مقام و مرتبے اور کرداروں پر روشنی ڈالی۔  ۔ ہم تو موقع دیکھ کر صاحب کو یہ کہہ کر چلتے بنے کہ “کیسی وفا کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا، تو اے سنگدل تیرا سنگِ آستاں کیوں ہو’ البتہ ہمدم ہائے دیرینہ کے ہاتھوں ہم اتنا مجبور ہوئے کہ ‘وڈا صاحب’ کا پارٹ ٹو لکھنے پر اتر آئے جس میں انکے انمول رتنوں کا مختصر تعارف بھی عود آیا ہے کیونکہ انکا تفصیلی احاطہ کرنے کیلئے ایک الگ دفتر درکار ہے۔
بارے انکشاف یہ ہوا ہے کہ شیر شاہ سوری صاحب آج کل ایک کارپوریٹ ٹائٹینک کے کپتان ہیں اور خود کو محمد بن قاسم سمجھ رہے ہیں جو  کمپنی کے معصوم ملازمین کو کومپٹیشن  (competition)کے راجہ داہر کے چنگل سے نکالنے کیلئے بلائے گئے ہیں۔ ملازمین البتہ اس ستم ظریف کو ڈھونڈنے میں ہمہ تن مصروف ہیں جس نے خط لکھ کر صاحب کو بلایا۔ جوش و ولولہ بھلے محمد بن قاسم جیسا ہے مگر ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت وہی مغل بادشاہوں والی بدستور قائم ہے۔ گزشتہ کمپنی میں افسر شاہی ذرا کم تھی جو یہاں آکر اختیارات کے ساتھ مزید بڑ گئی ہے اس لیئے یہاں کے باسی انکو عالم پناہ کہہ کر پکارتے ہیں اور عالم پناہ اب اکیلے نہیں انکے اردگرد انمول رتن بھی ہیں جو اپنی ذات میں ایک مکمل صاحب ہیں، یہ عالم پناہ کی جی حضوری بھی کرتے ہیں، انکا دل بھی بہلاتے ہیں اور عوام الناس کو بادشاہ سلامت سے حد درجہ دور رکھنے کی ڈیوٹی بھی سرانجام دیتے ہیں۔
اصل نام لکھنے کی تو اب بھی مجال نہیں البتہ کسی نہ کسی مشابہت کے تحت مغل بادشاہ کے انمول رتنوں والے ناموں سے ہی کام چلایا جاتا ہے۔ ایک بیربل ہے جو جتنا سیریس بننے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی مزاحیہ لگتا ہے۔اسکا تعلق خطہ پوٹھوہار سے ہے جہاں راجے اور فورڈ ویگنیں بکثرت پائی جاتی ہیں، موصوف خود کو راجوں مہاراجوں کی نسل قرار دیتے ہیں مگر عوام الناس کا شک فورڈ ویگنوں پر بدستور قائم ہے۔ ایک مان سنگھ ہے جو سی آئی ڈی کا چیف بھی ہے کہ بیشتر انفارمیشن اسی کے توسط سے عالم پناہ تک پہنچتی ہے، وہ حسبِ توفیق عوام الناس پر رعب جمانے کا کام بھی کرتا ہے۔ بادشاہ سلامت کے تمام رتنوں میں سے یہ عوام میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ ادائیں زنانہ مائل ہیں، کمال کی بات یہ ہے کہ سائیڈ اے اور سائیڈ بی ایک سی ہیں۔ اسکو کمپنی کی فرسٹ لیڈی کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔ عوامی حلقے موقع کی مناسبت سے اسکی بیستی ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ ایک ٹوڈی مل ہے جو بے دھڑک لوگوں کی باتوں میں حسبِ توفیق مصالحہ لگا کرپیشِ خدمت کرتا ہے۔ چاپلوسی کرتا اور صاحب کمال کرتا ہے۔ ایسا رتن مغلوں کے پاس ہوتا تو ضرور وزیرباتدبیر ہوتا مجال ہے جو ہاں میں ذرا سی بھی ناں ملائے۔ حسبِ موقع لگائی بجھائی بھی کرتا رہتا ہے۔ ظاہری فاصلہ سب سے زیادہ اسی کا ہے مگر دل کے بے حد قریب رہتا ہے، ہر “خبر” پر نظر اور لمحہ لمحہ اپ ڈیٹ رکھتا ہے۔یہ گزشتہ زمانوں کے کبوتروں سے تیز اور بھروسہ مند رپورٹر ہیں۔ مشورے بھی دیتے ہیں، دل بھی بہلاتے ہیں اور صاحب کا موڈ خراب ہو تو ڈانٹ بھی بخوشی سنتے ہیں۔
عالم پناہ کی طبیعت میں سنجیدگی اور غصے کی کثرت ہوگئی ہے جس کا سبب چند ناعاقبت اندیش دائمی قبض کو گردانتے ہیں۔ طبیعت میں انتہائے درشتی کا ایک سبب تو ٹائٹینک کی روز بروز دگرگوں ہوتی حالت اور نان پرفارمنس کے آئس برگ کو دیکھتے ہوئے بھی ایسے آنکھیں بند کرنا جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر کرتا ہے۔  انمول رتن البتہ سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں، کمپنی دیوالیہ پن کے دوراہےپر آن پہنچی مگر انمول رتن ابھی تک “دلی ہنوز دور است” پہ قائم ہیں۔ مزاج کی تیزی کیساتھ ساتھ صاحب مزید شکی مزاج ہوگئے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ گھر سے منگائے کھانے میں نمک تیز تھا تو ہفتہ بھر بھابھی سے ناراض رہے کہ تم یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہوں تیز نمک کھلا کر مجھے قتل کرنا چاہتی ہو۔ اور حساس اتنے ہوگئے ہیں کہ انکے روزانہ خطاب کے دوران کوئی بندہ اگر اپنے موبائل فون کی طرف دیکھ لے تو بے اختیار پوچھتے ہیں “ریکارڈ تے نئیں کرریا کدرے؟”۔ جیسے جیسے دنیا آٹومیشن کی طرف جارہی ہے صاحب اسی رفتار سے پیچھے کو چل رہے ہیں۔ قدامت پسندی پر بدستور قائم ہیں اور آج بھی انیس سو ڈوڈھ والے طریقہ مینجمنٹ پر قائم ہیں اور ناقدین تو غالبؔ کے اس شعر کو صاحب کا کتبہ قرار دے رہے ہیں ‘تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ ، سرگزشتہ خمار رسوم و قیود تھا’۔ کمپیوٹروں کے ہوتے ہوئے بھی ہر صبح رپورٹس، جنہیں سیلز ٹیم ناکردہ گناہوں کا پلندہ کہتی ہے، کے پرنٹ کروا کر ٹیبل پر رکھوا لیتے مگر مجال ہے جو کبھی انکودیکھتے ہوں۔ رپورٹس اور صاحب کا رشتہ بالکل پرانی اردو فلموں جیسا ہے جہاں ہیروین ناچ ناچ پاگل ہوجاتی اور ہیرو صمً بکمً بنے کھڑا رہتا۔ ایک بار آفس بوائے نے پوچھا کہ سر انہیں ردی میں بیچ دوں خوامخواہ گند اکٹھا ہورہا ہے تو ارشاد فرمایا ارے جاہل تو نہیں جانتا یہ کیا ہے یہ کامیابی کی کنجی ہیں، اگر ردی والے کے ہاتھ لگ جائے تو وہ راتوں رات ترقی کرجائے۔ آفس بوائے جاہل ہی تھا  تہہ لب بڑبڑاتا رہا سر تواڈی تے اج تک ترقی ہوئی نئیں اس غریب دی کی ہونی اے۔ یہی حال اخبار کا کرتے۔ خبروں کو کائی لگ جاتی مگر صاحب توجہ نہ فرماتے۔ کسی نے کہہ دیا کہ بڑے لوگ کتابیں پڑھتے ہیں اسی روز کتابوں کا ڈھیر ایسے لگویا جیسے “چھیتی دوڑھیں وے طبیبا نئیں تے میں مر گئیاں” اور اسکے بعد کبھی “مڑ خبر نہ لئی آ” اب دیمک ہے کہ صفحوں پر ناچتی پھرتی ہے ‘تھیا تھیا تھیا تھیا’
خمارِ اقتدار کا عالم یہ ہے کہ جہاں پناہ معمولی سی غلطی کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ کمپنی ملازمین کو ذاتی ملکیت سمجھ کر حسبِ منشاء گھریلو کاموں کیلئے بروئے کار لاتے ہیں اور تمام ملازمین کی تمام تر کامیابیوں و کامرانیوں کو اپنی انتھک محنت کا ثمر کہتے جبکہ ناکامیوں کو نطفے کا کمال گردانتے ہیں۔ جوں جوں عہدہ بڑھتا جارہا ہے صاحب کو فحش گوئی کا شوق ہوتا جارہا ہے۔ اکثر عوام الناس میں بیٹھے بیٹھے اپنے نہ ہونے والے بچوں کا قصہ لیکر بیٹھ جاتے یا گندے لطیفے سناتے۔ تھری ایڈیٹس مووی کا اثر اتنا ہوا کہ ایکسلینس پر زور دیتے رہتے اور وقت کی اہمیت پر تو اتنا اصرار کرتے کہ بعض اوقات کسی ایک کے پانچ منٹ ضائع کرنے پر گھنٹا بھر وقت کی اہمیت و افادیت پر لیکچر دیتے اور 20 لوگوں کا گھنٹا برباد کردیتے۔ طعنہ و تشنیع میں صاحب کو ملکہ حاصل ہے، انکے آگے تو ویلی مائیاں بھی کان پکڑتی ہیں۔ اگر یہ صنف ادب ہوتی تو شاید صاحب اسکے استادوں میں ہوتے۔ انکی لاجکس عجیب ہوتی ہیں، سنی سنائی اڑا دیتے ہیں مثالاً وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک بندہ ولایت سے منطق پڑھ کر دیس کو لوٹا اور لوگوں کو منطق یعنی لاجک سمجھانے کیلئے مجمع سے ایک شخص سے پوچھا ‘گھر میں کتا ہے؟’ اسنے کہا ہے۔ بولا یقیناً تمھاری ماں کے پاس ڈھیر سارا زیور بھی ہوگا۔ کہا ہاں ہے۔ بولا اسکا مطلب تمھاری فصلیں اچھی ہوتی ہونگیں۔ کہا ہاں بالکل۔ بولا تمھارا باپ صبح سویرے کھیتوں کو نکل جاتا ہوگا اور بڑی محنت کرتا ہوگا فصلوں پر۔ کہا ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ بولا تمھاری ماں دھوپ میں اسکے لئے روٹی بنا کر لے جاتی ہوگی اور رات میں میں ٹانگیں بھی دباتی ہوگی۔ کہاں ہاں بالکل صحیح۔ بولا منطق سے ثابت ہوا تمھاری ماں ایک نیک عورت ہے۔ اب وہ شخص جب اپنے حلقہ احباب میں جاکر منطق سمجھانے لگا تو پوچھا ‘تمھارے گھر کتا ہے’ جواب دیا نہیں، کہا منطق سے ثابت ہوا تمھاری ماں نیک عورت نہیں۔ طوالتِ تحریر کا خیال آجاتا ہے ورنہ ایسی بے شمار چولوں سے صاحب کے روز و شب بھرے پڑے ہیں۔ باقی پھر سہی۔