Sharing is Caring – Olpers Meherbaan


They say sharing is caring and what ,care, could be better than sharing food with underprivileged ones that too in the holy month of Ramzaan. It is an integral part of our belief system, good deeds are multiplied in Ramzaan. Olper’s Milk came up with this awesome campaign this Ramzaan with title of #OlpersMeherbaan. A CSR initiative by Olper’s aimed at community mobilization outreaching underprivileged ones.

On ground volunteer teams visited different areas, going door to door in Islamabad/Rawalpindi, Lahore and Karachi motivated people to donate food which eventually to be shared with unprivileged ones. Teams received food items from donors, put Olper’s contribution in and delivered to underprivilegedOlpe recipients in different areas of aforementioned cities.

Campaign was all about sharing food with underprivileged ones under slogan “har bejaan table ki jaan, Olpers Meherbaan” campaign started a day or two days before Ramzaan with a powerful thematic ad that kept on-air throughout the month. Parallel to advertisement on TV and OOH, digital media campaign was also run where volunteers from all walks of life participated and expressed their views about the campaign and how could everyone be part of it. Digital campaign was very well managed considering the duration and how tactfully seeders kept it alive and ensured public participation.

Olper’s through their official twitter account and Facebook page, kept updating daily activity areas, pictures anOlpers2maind even asked people to vote which areas to visit. In starting days of the activity largest city of Pakistan, Karachi was hit by heatstroke and claimed many lives, volunteers used #OlperMeherbaan hashtag on social media to coordinate with masses and arrange medicines, blood, water and other required items.

In total more than 24,000+ households were reached. This is among the largest community mobilization CSR activities where such huge number of people were reached and benefited from the activity. This indeed was need of the hour considering how many people live under the poverty line in Pakistan who couldn’t even afford food for themselves or their families. Corporate sector coming out with such positive campaigns and initiatives beyond commercial objectives is a good sign and a betterment for public at large. I wish initiatives like this keep running so that common man can also chip in and contribute to their extent.

Advertisements

قصہ ایک فلم کا


ہم چونکہ اپنے تئیں تھوڑے  تھوڑے پطرس بخاری ہیں اسلیئے ہمارے ساتھ اکثر و بیشتر ویسے ہی واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ سینما کا عشق تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا، ویسا ہی کھیل کل ہمارے ساتھ ہوا۔ ایک دوست کے طفیل  ‘رانگ نمبر’ کے پریمئیر شو کے پاس ملنے کی خبر آئی تو ہم نے چچا غالبؔ کے فلسفے کے تحت سوچا ‘مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے’۔
وقتِ مقررہ سے تھوڑا پہلے پہنچ گئے تو پتہ چلا جنہوں نے ‘اندر’ کرانا ہے وہ نہیں پہنچے، یہاں وہاں ٹامک ٹوئیاں مارتے وقت گزارا پھر سینما گئے، کافی  پُرشکوہ  ماحول تھا، ہمارا حال انور مسعود کی اس نظم  ‘رحما  ان جنت’ والا ہوا  وا تھا، یہاں وہاں ایمان شکن  پریاں منڈلا رہی تھیں اور ہم رحمے کی طرح بس ادھر ادھر دیکھی جائیں۔ پھر فلم کی کاسٹ کی آمد ہوئی، ٹی وی پہ دیکھی شکلیں بل مشافہ دیکھیں تو خود کو سلیبرٹی سلیبرٹی محسوس کیا، ضمیر کو تو ہم سنبھال لیتے ہیں مگر  ایسے موقعوں کی طاق میں بیٹھا ہمارے اندر کا جنید جمشید فوراً جاگ جاتا ہے  اور تقدسِ رمضان وغیرہ وغیرہ جیسے موضوعات زیرِ بحث آگئے لیکن ماحول کی چکا چوند  اور نفسِ امارہ کی ملی جلی سازش سے ہمارے اندر کا عامر لیاقت جنید جمشید پہ غالبؔ آہی گیا۔ فلم شروع ہوا ہی چاہتی تھی کہ ہم نے اس شخص کی تلاش شروع کی جس نے ہمیں ہال کے ٹکٹس تھمانے تھے۔ باریش صاحب بڑی مشکل سے ملے اور ہمارے ساتھ چھپن چھپائی کھیلنی شروع کردی، ہم یہاں سے جائیں تو وہ وہاں کو نکل جائیں، خیر کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی لکا چھپی کے بعد جب ہم ان سے الوداعی سلام لینے لگے تو انہوں نے ٹکٹ تھما ہی دئیے۔ ہم فاتحانہ چال چلتے ہال میں داخل ہوئے تو فلم شروع ہوچکی تھی اور ہیروین (غالباً سوہا علی ابرو) ہیرو کے گرد منڈلاتے ہوئے انہیں بتا رہی تھیں کہ کنڈی لگ گئی دروازے کو، سمجھدار کو اشارہ کافی  وغیرہ وغیرہ۔
خیر، باقی ماندہ  فلم اچھی رہی، جاوید شیخ صاحب کا  اپنے فلمی بیٹے دانش تیمور کو طمانچہ ہمیں اپنے بچپن میں لے گیا جب انقلابی ولولوں کو تھپڑوں سے سینچا جاتا تھا۔ ٹیپیکل پاکستانی وِٹ اچھی لگی بعض جگہ تھوڑا اوور بھی کردیا، مثلاً بچے کے ختنے کو جتنی تفصیل سے دکھایا ، یا خودکش حملہ آور اور پولیس کی تضحیک وغیرہ ۔ ہیروین کی بھی باتوں باتوں میں “خامیاں” بتا ہی گئے ہیرو صاحب۔
ابھی تو شروعات ہیں، آگے چل کے یقیناً جنوئین سٹوریز اور آئیڈیاز آئینگے ابھی کیلئے کچھ یہاں کچھ وہاں سے جوڑ کر، تھوڑے کامیڈی سینز یہاں وہاں کے اٹھا کر ٹھیک ٹھاک ہی فلم بنا لی، اچھی مصالحہ فلموں والے تمام اجزا، آئیٹم نمبر، کامیڈی، ایکشن وغیرہ سب  شامل ہیں۔
پوری سٹوری سنانے کا نا فائدہ ہے نا آپ سنیں گے، ویسے بھی ہم نے تو مفت میں دیکھ لی آپ پیسے دے کر خریدیں گے تو یقیناً زیادہ اچھی لگے گی۔   ویسے “ان” کی فلموں کے مقابلے پہ آگئے ہیں ہم، میڈ اِن پاکستان کرپشن کے علاوہ جس بھی چیز پر بھی ہو ہمارے لیئے باعثِ فخر ہی ہوے ہے۔
IMG-20150714-WA0026  IMG-20150714-WA0022

تزکِ نیازی – آٹو بائیوگرافی آف دا کنگ خان


Originally Published on PK Politics

ضروری نوٹ:  اس تزک کا انگریزی ترجمہ بنام “آٹو بائیوگرافی آف دا کنگ خان” بہت جلد نیویارک ٹائمز میں شائع کیا جائے گا

پیش لفظ:

آجکل دوسروں کے کارنامے اپنے سر لینے کا رواج عام اور نوسرباز ڈس انفارمیشن پھیلا کر عوام کو اصل حقائق سے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں  جیسے انفراسٹرکچر کی بنیاد مہاتما نے جی ٹی روڈ کی تعمیر سے رکھی جس کا کریڈٹ آجکل میاں صاحب بڑی ڈھٹائی سے موٹروے کے نام پر لیتے ہیں۔ جعلسازی کی صنعت کی روک تھام ، برائے اصلاحِ ریکارڈ و اطلاعِ عوام، مہاتما نے بقلم خود  حیاتِ عظیم سے پردہ ہٹایا ہے، لکھنے والے پینل میں شامل ہیں جناب قیامت مسعود، مباشرت لقا، حسن ایثار، خلیفہ جی اور شیکسپئرِ جنوبی پنجاب جناب کلاسرہ کروڑوی ساب۔ کارنامے چونکہ طویل ہیں اور کئی جلدوں پہ مشتمل ہیں اس لیئے عوام کی آسانی کی خاطر چیدہ چیدہ واقعات بمعہ شرح رقم کردی گئی تاکہ سند رہے اور کبھی کام نا آسکے۔

آغاز:

“ماہِ الیکشن سنہ2013 میں عمرِ عزیز کے 62  ویں سال میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ۔”

ضلع پیدائش میانوالی تھا مگر بڑے مقصداور مظلوم عوام کی خاطر سب چھوڑچھاڑ لاہور آگئے۔ پڑھائی سے خاص شغف نہیں تھا مگر عوامی لیڈر ان پڑھ ہو نہیں سکتا، کرکٹ اور چند ایک دیگر کھیلوں سے بچپن سے ہی خصوصی لگاؤ تھا، محلے میں میری کرکٹ اور دیگر صلاحیتیں دیکھتے لوگ کہتے تھے کہ یہ ایک دن کپتان بنے گا۔ خیر وقت کا پہیہ چلتا رہا میری کرکٹ، سیاست اور عاشقی مشعوقی محلے سے نکل کر شہر، ملک اور دنیا بھر تک پہنچی. میں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی بجائے کاؤنٹی اپنا لی اور گلی کی بجائے انٹرنیشنل افیئرز۔میں بچپن سے ہی سٹار تھا، میری بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ہی مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی والوں نے داخلہ دے دیا۔  یوں ایچیسن کالج سے جان چھوٹی، ایچیسن کا زندگی پہ عجیب اثر پڑا، کسے معلوم تھا کہ نقلی بالوں والا اصلی چوہدری کل کو وزیرِ داخلہ اور میرا سیاسی حریف بنے گا، ایسے ہی اور بہت سے کن ٹٹے تھے جنہیں کبھی میں نے لفٹایا نہیں آج میری برابری کرتے پھرتے ہیں۔ ایسے ایسے نابغے میرٹ کی چھاننی سے نکلے کے بے اختیا ر میرٹ کے قتل کا جی چاہنے لگا ہے۔

دورِ آکسفورڈی و تحریکِ پاکستان

جیسا کے گزشتہ باب میں بیان ہوا کہ میری بے پناہ قائدانہ اور فائدانہ صلاحیتوں کے پیشِ نظرآکسفورڈ میں داخلہ مل گیا، یہ وہ زمانہ تھا جب قائدِ اعظم کانگریس سے بددل ہوکر لندن آئے ہوئے تھے، اقبال کی تحریک پر میں نے محمد علی جناح کوحکماً واپس انڈیا بھیجا۔ میں چاہتا تو اسی وقت ملکی باگ دوڑ سنبھال کر ڈائریکٹلی نیا پاکستان ہی بنا دیتا لیکن پھر لیڈر کا وژن سامنے تھا کہ عمران اگر اس نوجوان کو آج موقع نا دیا تو کل کو بلونگڑے  تمھیں کس سے زیادہ عظیم ثابت کریں گے۔ جناح بھی میرے معتقد رہے تحریکِ پاکستان دراصل تحریکِ انصاف سے ہی متاثر ہوکر شروع ہوئی، دھاندلی والی بات پر وہ میرے دستِ راست بنتے اگر زندگی وفا کرتی۔ نام و نمود سے بندے کی طبیعت اکتاتی ہے ورنہ ضرور بتا دیتا کہ چودہ نکات، سول نافرمانی  اسی ناچیز کی ذہنی کاوشیں تھیں۔

تھوڑا عرصہ جناح کو آبزرو کیا اور جان لیا کہ یہ لڑکا جوشیلا ہے جو چاہتا ہے کرلے گا اسے اپنے حال پہ چھوڑ دو اور کرکٹ کو اپنا لو، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے وژن۔

قیامِ انگلستان:

آکسفورڈ کیلئے گھر سے نکلتے وقت انسٹرکشنز ملی تھیں کہ بیٹا  فرنگیوں کے دیس سے خالی ہاتھ نہ آنا، پہلےورلڈ  کپ بعد میں بیگم لے کر آیا یہ ہوتی ہے فرمابرداری۔ دیگر واقعات محض اوراقِ پریشاں  ہے بس حبیب جالبؔ نے جیسے کہا

؎ یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا

  جہاں گئے داستاں چھوڑ آئے

قیامِ انگلستان کے دوران شاعری سے شغف ہوا، میں تو پہلے ہی بے پناہ مشہور تھا سو اقبالؔ نامی اک نوجوان جسے پہلے اپنے خواب بھی سناتا تھا ، کو بھیجتا رہا کہ اپنے نام سے چھپوا کے مشہور ہوجائےبعد ازاں فیض احمد فیضؔ کو بھی اپنی مزاحمتی نظمیں بھیجتا رہا، عجیب بات ہے کے دونوں نوجوانوں کی فوتگی کے بعد شاعری کا شوق یکسر ختم ہوگیا۔ پاکستان بننے کے بعد زیادہ تر کرکٹ اور آنکھ مچولی کھیلی۔ کپ، بیگم اور ڈگری کے ساتھ وطن لوٹا ۔

تحریکِ نیا پاکستان:

کرکٹ سے فراغت کے بعد ہسپتال بنایا، اسکے بعد تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے پاکستان کی بنیادیں رکھنے کی کوشش کی، کسی نے ساتھ نا دیا لیڈا 15-16 سال کھجل ہوتا رہا، پھر ایک نورانی بابا پاشا سرکار ملے اور موری نیئا پار لگی، انقلاب کی راہیں روشن ہونے لگیں لیڈر قربانی کے بغیر نہیں بنتا سو لفٹر سے گرا، اور کچھ زیادہ ہی گر گیا۔ قوم فتوحات اور قربانیوں کو فراموش کرنے لگی سو دھرنے کی صورت غبارے میں ہوا بننے کی ٹھانی۔  مصداق اس سی گریڈ مثال کے،زمین ملی بنجر دوست ملے کنجر، مجھے پارٹی کے امور چلانے واسطے فرشتوں نے ایسے ایسے انسان مہیا کیئے کہ خدا کی پناہ، انہیں تو جنت میں بھیج دو وہاں بھی نقص نکال آئیں گے، کوئی تعلیمی طور پہ ذلیل کرواتا ہے، کوئی بیلٹ بکس اٹھا لے جاتا ہے، کسی کو اپنے جہاز کا زعم ہے کوئی اس غم میں خود جہاز ہوا پھرتا ہے۔ کسی کی اپنی پیری فقیری کی دکان چلتی ہے تو بی بی مزاری  میری سمجھ سے باہر ہے، یہ وہ پالتو ہے جو سال میں ایک بار ضرور مالک کو کاٹتا ہے۔ ورک جیسے با صلاحیت اور مبشر جیسے با ضمیر لوگ بھی مل تو گئے مگر پھر بھی،

؎ اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا

میرا دھرنا وہاں ٹوٹا جہاں پانی گرم تھا

دھاندلی اور دھرنہ:

نیا پاکستان مصالحہ مووی کی طرح بنانے کی کوشش کی تھی جس میں تمام مصالحہ جات رکھے مگر اللہ غارت کرے اس نورے کو، بڑی قسمت والا ہے جو مجھ سے بچ گیا۔ باقی گندے انڈے  میرے بستے میں تھےمیرے جلسے میں باغی باغی کے نعرے لگا کر میری ہی  واٹ لگا گیا، ان سے اچھا مشرف تھا، وزیرِاعظم بنا رہا تھا، ہک ہا، کیا وقت تھا۔ دھاندلی اور دھرنے کا وہی مرغی اور انڈے والا حساب ہےکہ کون پہلے آیا،  لوگ دھرنے کو میرے سیاسی کیرئیر کا عروج بتاتے ہیں اور سیانے میری سیاسی موت، خیر جو بھی ہو، لیڈر نہ ڈرتا ہے نہ ہارتا ہے۔ اتنے دن تو “شعلے” بھی نہیں چلی جتنے دن میرا  آئٹم چل گیا، اچھے پیسے مل گئے اب اس عمر میں کمائی مشکل ہوگئی ہے۔ویسے بھی وہ کیا بھلا سا کہا تھا اک شاعر نے

؎                                                  نہیں تیرا نشیمن بنی گالا کے صوفوں پر

                                                     تو لیڈر ہے چڑھا رہ کنٹینر کے زینوں پر

 دھرنے کی کرامتیں دیکھیں سوشل میڈیا پہ میرا راج ہے، اینکرز میرے اپنے، جہاز مجھے مل گیا، روبوٹس کی ایک فوج جو میرے یک جنبشِ لب پہ اپنے بزرگوں تک کو سرِ عام گالیاں دے دیتے ہیں، اور کیا چاہیئے، ہیں جی؟ یہ البتہ درست کہ آیا میں نورے کی ہمشیرہ والدہ ایک کرنے تھا اور میری اپنی خاندان کی تمام خواتین انہوں نے یکجا کردیں، اس نے

                    میرے ہی “بلے” سے میری دھلائی کی

                                                                   بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

دھاندلی تو اتنی ہوئی کہ الامان۔ ہم نے بلا اور شیر دو انتخابی نشان مانگے تھے جبکہ ہمیں صرف بلا دیا گیا جسکی وجہ سے ہمارے آدھے  ووٹ غلط کاسٹ ہوگئے، باقی مجھے اپنے مخالفین سے زیادہ دوستوں نے نقصان پہنچایا۔ ثبوتوں کے نام پر چولوں نے جتنی ردی اکٹھی کی تھی اسکو بیچ کر ہی جج کرلیتے۔ رہتی سہتی کسر میرے دھرنوی کزن مولوی طاہر نے پوری کردی، ایسا مردِ مومن ہے کس شان سے اپنی بات سے پھرتا ہے کہ مجھے بھی شرما دیتا ہے۔

اختتامیہ:

لوگ کہتے ہیں اتنا رولا ڈال کر دھرنا ختم کیوں کیا؟ بھئی ایک تو امپائر کی انگلی دغا دے گئی دوسرا غالبؔ کی بات ذرا دیر سے سمجھ لگی تھی

؎                     نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔ

ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

ہماری تحریک ویسے ہی پر امن تھی ہم نے مزید طعنہ و تشنیع کے بغیر “جادو کی جپھی” سے کام چلانے کی ٹھانی۔  سیاسی کیرئیر کے عروج پہ شادی کیوں کی؟  پہلے لوگ نشہ کرنے کا الزام لگاتے تھے،  بھئی کلا بندہ کی کرے، نہ بیوی نہ بچے نا کوئی اور خاطرخواہ کامیابی، ڈگری والی بات کے بعد سے عائلہ بھی دور دوررہتی تھی ، شیریں مزاری اور نعیم الحق کے ہوتے شکر کریں میں صمد بونڈ کے نشے پہ نہیں لگ گیا۔ 35 پنکچر، پپو، 1 ارب د درخت، 350 ڈیم، زندہ لاشیں، گرم پانی، گیزر،  اور یو ٹرن اسی نشے کے سبب کی ذہنی اختراعات ہیں۔ ایسے میں  سامنے عوام پیچھے ریحام، یا سامنے گرتا یا پیچھے، سو لیڈر نے فیصلہ کرلیا، بیوی ریڈی میڈ بچوں کیساتھ مل گئی اور اب گھر میں ہی انٹرویو بھی ہوجاتے ہیں

؎ ادھیڑ عمر میں اچھا لگتا ہے

جرابیں جو جرابوں میں ملیں

 نشے لی لت چُھٹ تو گئی لیکن گھر اور سیاست کی  کھپ دیکھ کر سوچتا ہوں وہی نشہ اچھا تھا۔ مئی 2013 سے جو چمونےوقتاً فوقتاً لڑتے تھےدھاندلی کمیشن والے ڈاکٹروں نے اچھا علاج کیا ہے، مگر  انقلابی چورن اور  تبدیلی چینی سے پرہیز بتائی ہے کہ انقلابی چمونے سوئے ہیں  ابھی مرے نہیں۔

“ماہِ الیکشن سنہ2013 میں عمرِ عزیز کے 62  ویں سال میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ۔”

Update:

شنید ہے کہ دوسری شادی کی ناکامی کے بعد خان ساب نے تیسری کھڑکا لی ہے – واللہ اعلم