تُھک از جوید چوہدری


 خاتین و حضرات، میں اوں جوید چودری۔ خاتین و حضرات اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے اور انکے استعمال کا اختیار انسان کو دیدیا ہے۔

imagesخاتین و حضرات میں آج کا پروگرام انہی صلاحیتوں میں سے ایک کے بارے میں ہے۔ لیکن موضوع کی طرف جانے سے پہلے میں آپکو ایک کہانی سناتا چلوں۔ کوئی 2000 سال پہلے ایک بادشاہ تھا طورتمش جو بہت رحمدل تھا عوام کی خدمت کرتا اور فلاح کے منصوبے بناتا مگر کبھی عوام کا دل نہ جیت سکا اور عوام ہمیشہ اس سے خائف رہے۔ اسی وقت میں کسی اور ملک میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا فتوربش بہت ہی ظالم جابر اور کرپٹ حکمران تھا، عوام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھی ہوئی تھی اس نے مگر پھر بھی عوام کا پسندید لیڈر تھا اور عوام کے دلوں پر راج کرتا تھا۔

کیا کیوں اور کیسے جانئیے گا پروگرام کے آخر میں۔ فی الوقت ہم واپس موضوع کی طرف آتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے جن میں سے ایک تُھک بھی ہے۔ خاتین و حضرات تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ کتنےمشکل کٹھن اور بظاہر ناممکن نظر آنے والے کام بھی اسی دوا نما خوبی کی بدولت نکلے۔

تُھک دو طرح کی ہوتی ہے، ایک لگائی جاتی ہے اور دوسری لگانی پڑتی ہے۔ اسکے استعمال کا اختیار قدرت نے انسان کے ہاتھ دیا ہے۔ چاہے تو مینارِ پاکستان پہ چڑھ کے شرطیں لگا کے کہ کس کی تھوک پہلے زمین پر پہنچے گی اور چاہے تو تُھک لگا کر لاکھوں اربوں کمائے۔ جیسے فزکس میں لیور ہے جس سے آپ بڑے بڑے کام سرانجام دے سکتے ہیں، احرامِ مصر کو ایک ڈنڈے کے سہارے ہلا سکتے ہیں، ایفل ٹاور کو سرکا سکتے ہیں، فیری میڈوز کو لیور کے ذریعے اٹھا کر اسلام آباد کی طرف سرکا سکتے ہیں، احتجاجوں اور دھرنوں سے حکومت گرا سکتے ہیں  ویسے ہی کارپوریٹ، گورنمنٹ اور راج نیتی میں تھک بھی ایک لیور ہے جس کے ذریعے آپ بڑے سے بڑے کام نکلوا سکتے ہیں۔

ماضی قریب میں اسکی کئی کامیاب مثالیں ہیں۔ یہ رواج دنیا بھر میں عام ہے، بارک اوباما بھی امریکی عوام اور پارٹی کو تُھک لگا کر ہی اقتدار میں آئے۔ پاکستان جیسے ملک میں تو خیر اس ٹیلنٹ کی قدر بھی بہت ہے۔ آپ عامر لیاقت کو دیکھ لیں، محلے کی پنکچرڈ  سائیکلوں کے پیڈل مار مار شوق پورے کرتا تھا، آج اسی تُھک کے سر پہ ایک چینل کا پریزیڈنٹ بن گیا ہے، ہر رمضان گھر میں پھینیاں آئیں نا آئیں یہ ضرور آتا ہے۔ 20 کروڑ عوام کو 30 دن تُھک لگاتا ہے، جتنی مومن اپنی طرف سے نیکیاں کماتے ہیں یہ پیسے کمالیتا ہے۔

آپ عمران خان کو دیکھ لیجئے، 15 سال لور لور پھرتے رہے انقلاب لانے کو جگہ نہ ملی اور پھرموقف میں ذرا سی “تبدیلی” اور لہجے کی ذرا سی تلخی نے تُھک کی ایسی نہریں بہائیں کہ نونہالانِ انقلاب ایسے برآمد ہونے لگے جیسے ہاجوج ماجوج۔

آپ قادری جگر کو دیکھ لیں، محلے کی مسجد سے ایز خطیب اپنے کیریئر کا آغاز کرنیوالا یہ نوجوان آج شیخ الاسلام ہے، کرائے کی سائیکل لے کر پتوکی سے لاہور اکیلے آتے تھے آج   علامہ صاحب  ایمرٹس کی بزنس کلاس سے سفر کرتے ہیں اور انقلاب ساتھ لیئے گھومتے ہیں، پہلے یہ گھر کی گھنٹی بجاتے تھے تو اندر سے سڑا جواب آتا تھا “جا اوئے مولوی فیر آویں” اب یہ ملک کی اعلیٰ قیادت کو للکارتے ہیں اور اپنے ستقبال کے لیئے عوام حکومت اور آرمی قیادت کو طلب کرتے ہیں۔ یہ سب اسی تُھک کی برکتیں ہیں۔

آپ چاچا تیتری کو دیکھ لیجئے پہلے محلے کے نان والا بھی اسکی گرائمر اور مشکل پسند  مہمل و بے مطلب کی مدح سرائی پر بے عزتی کردیتا تھااور ادھار نان دینے سے انکاری ہوجاتا کجا اب چاچا تیتری فوج سے لے کر سیاست اور پھل سبزیوں سے لے کر انقلاب سب موضوعات پر قلم کشائی کرتا ہے، یہی حال حسن نثار کا ہے۔

آپ دور کیوں جاتے ہیں۔ آپ میری یعنی جوید چوہدری کی ہی مثال لے لیں۔ ساری گرمیاں عین درمیان سے پھٹی نیکر پہن کے نہرمیں دوپہریں غارت کرنیوالا آج برینڈڈ سوٹ پہنتا ہے، بغیر گدی سائیکل چلانے والا آج 50 لاکھ کی گاڑی چلاتا ہے۔ محلے کے پارک کے علاوہ جس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا آج وہ ورلڈ ٹور کرتا ہے، سب اسی تُھک کے صدقے۔ جب تک دنیا میں ملک ساب جیسے نیک پارسا خدا ترس لوگ ہیں آپ کا بھائی ورلڈ ٹور کرتا رہے گا۔

خاتین و حضرات آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تُھک کیسے کام کرتی ہے۔ ملکی سطح ہر تُھکیا بننے کیلئے آپکے پاس مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک ہونا لازم ہے:

  • وقار – تُھک کا  لا ئسنس  ہے یہ  اوروں کو بھی لائسنس دیتا ہے
  • سیاست – سیاست تو خیر سے تُھک کی فیکٹری ہے جس سے دیگر صنعتیں بھی مستفید ہوتی ہیں
  • میڈیا – چاند کی مانند اسکی اپنی تُھک نہیں ہوتی یہ سیاست اور وقار کی تُھک عوام کو لگا کر دونوں طرف سے لوٹتے ہیں
  • سوشل ورک – یہ انٹرنیشنل تُھک ایجنسی ہے

خاتین و حضرات یہ جو ورلڈ ہے اس میں دو ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جن کو تُھک لگتی ہے اور دوسرے وہ جو تُھک لگاتے ہیں، اب یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ کونسے کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو کہانی شروع میں بیان کی تھی اس میں بھی ہمارے سیاستدانوں اور انقلاب نوردوں کی طرح تُھک بندی ہی وہ گیدڑ سنگھی تھی جسکی وجہ سے فتور بش عوام کا پسندیدہ اور من بھاتا لیڈر تھا۔

Advertisements

انقلاب اور انکی اقسام


یہ جو ملکِ خداد میں آجکل “جسکی پارٹی اسکا انقلاب”  والا ڈرامہ چل رہا ہے، یہ کوئی آج کی بات نہیں۔ اقوامِ عالم میں یہ بہت پہلے ہوہوا چکا  ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ پراپر پلاننگ وغیرہ کے بعد ہی ایسی حرکت کی جاتی تھی، پہلےپہل اس میں سیاست کا اتنا عمل دخل نہیں تھا، جدوجہدکامیاب ہوجاتی تو انقلاب وگرنہ بغاوت۔ انقلابیوں کی لمبی لسٹ موجود ہے۔ مشہور انقلابوں میں انقلابِ فرانس، انقلابِ ایران، اور شاید روس کا انقلاب بھی۔ مشہور انقلابیوں میں لینن، چی گویرا، نیلسن منڈیلا، مارٹن لُدرکنگ وغیرہ شامل ہیں۔ اپنے یہاں برصغیر میں اگر 1857 ءکی جنگ ِ آزادی جیت جاتے تو سرسید احمد خان بھی انقلابی مشہور ہوتے اور دورِ حاضر کے کئی انقلابیوں نے انکی فوٹو جابجا اپنے فیس بک پر “انقلاب کی علامت” کے طور پر ٹانگی ہوتی جیسے آجکل انڈیا   خوامخواہ گاندھی جی کو قائد اعظم سے بڑا لیڈر اور تحریکِ آزادی کی علامت کے طور پر پورٹرے کررہا ہے۔ حالانکہ معاملہ گاندھی جی پر رہتا تو سارا برصغیر آج بھی بیٹھ کر گاندھی جی کے اُسی چرخے پر کچھے اور بنیان بُن رہا ہوتا۔ پہلے والے انقلاب سبھی بڑے خشک اور خونیں ہوتےتھے۔ اب البتہ زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں اور انقلاب لانے کے نئے نئے ٹولز آگئے ہیں جیسے کہ فیس بک  ، جلسہ سیلفیز اور میوزیکل البمز۔
دنیا میں انقلاب مختلف وجوہات کی بناء پر آتے رہے مثلاً
• یکساں حقوق کیلئے
• آزادی کیلئے
• سماجی برابری
• عوام کے استحصال کے خلاف
• ترقی کی خاطر

اور ان تمام انقلابات میں چند قدریں مشترک تھیں۔ ان تمام انقلابات کی بنیاد عوام کی جانب سے رکھی گئی نہ کہ لیڈروں نے باور کرایا کہ بھائیو تمھیں انقلاب چاہیئے، انقلابیوں کو لیڈ کرنے انہی کے بیچ سے لوگ اٹھے انکے اپنے لوگ، کسی نے باہر سے آکر کمان نہیں سنبھالی، انقلابی تحریکیں کسی نہ کسی تھیوری یا سوچ جیسے مارکسسٹ تھیوری وغیرہ کے تحت چلیں نہ کہ “سوچی سمجھی” سکیموں یا بیرونی امداد کے تحت۔ پرانے وقتوں میں لوگ اکثر فارغ ہوتے تھے اسلیئے ہر گلی ہر محلے میں گھروں میں اخباروں میں انقلاب کے تذکرے ہوتے بحثیں ہوتیں عوامی رائے کو زیرِغور لایا جاتا، فیوچر پلاننگ ہوتی سٹریٹجی بنتی وغیرہ وغیرہ، آجکل چونکہ عوام کے پاس اتنا ٹائم نہیں تو یہ تمام کشٹ بھی لیڈر حضرات خود ہی اٹھالیتے ہیں۔ پہلے زمانوں میں قربانیاں لیڈر اور عوام دونوں دیتے تھے، آجکل عوام قربان ہوتی ہے اور لیڈر اس قربانی کے صدقے حکومت کرتے یا انقلاب برپا کرتے ہیں۔ برصغیر کی مختصر سی تاریخ میں قائدِاعظم ایک انقلاب لائے جو پاکستان کی شکل میں ہمیں نصیب ہوا مگر ہم نے الحمدللہ اسکے ساتھ وہ کیا کہ پھر کسی بھی مخلص لیڈر نے ایسی جرات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ ایک دہائی سے البتہ  سیاستدانوں نے انقلاب کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ آجکل اکثر انقلاب خود لائے یا بلوائے جاتے ہیں، اقتدار حاصل کرنے یا حاصل کیا ہوا اقتدار بچانے کیلئے۔

پاکستان ایک کریٹو ملک واقع ہوا ہے، یہاں آکر تو اسلام میں بھی بدعتیں ہونے لگیں بیچارا انقلاب کس شمار میں، سو ہم اور ہمارے “سیاسی انقلاب کے خواہاں لیڈروں” نے انقلاب میں بہت جدت پسندی لائے ہیں، پاکستان میں مندرجہ ذیل قسموں کے انقلاب لائے جاتے ہیں، خیال رہے کہ کوالٹی کنٹرول تقاضوں کے پیشِ نظر تمام تر انقلاب دساور سے لاکر لوکلائز کیئے جاتے ہیں “میڈ ان پاکستان” انقلاب ابھی تک بنا نہیں۔ دورِ جدید میں ہر انقلاب فیس بک، میڈیا، کرائے کے انقلابیوں اور بھاڑے کے دانشوروں کا مرہونِ منت ہے۔ انکے بغیر انقلاب لانا بالکل ویسی ہے جیسے ناڑا ڈالے بغیر شلوار پہننا۔
پراکسی انقلاب – پراکسی انقلاب ایک ایسا طریقہ انقلاب ہے جسکے ذریعے آپ گھر بیٹھے کسی دوسرے ملک میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اس میں خرچہ تھوڑا زیادہ آتا ہے اور اتنا دیرپا نہیں ہوتا جیسے مصر، لیبیا وغیرہ میں آیا تھا۔ اس انقلاب میں ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کافی دخل ہوتا ہے۔
بوری بند انقلاب – یہ انقلاب تحریکِ نامعلوم افراد نے متعارف کروایا۔ اس کی روح سے جو بھی شخص “تحریک” کے تشخص کیلئے خطرہ سمجھا جائے، سماجی معاشی یا لسانی بنیادوں پر، اسے بوری میں بند کرکے سپردِ سڑک کردیا جاتا ہے۔
میوزیکل انقلاب – یہ طریقہء انقلاب 2011 میں متعارف کروایا گیا اور آج تک کافی مانگ ہے اسکی۔ علاوہ دیگرے یہاں ملک کے نوجوانوں کو مفت تفریح کے مواقع مہیا کیئے جاتے ہیں جس میں کنسرٹ اور آئی کینڈی گیم سرِ فہرست ہیں۔ یہ حصولِ اقتدار کیلئے مجرب نسخہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسکا آغاز تلاوت سے اور اختتام گانے پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ باتیں ٭٭٭٭٭ کے ماہر ہوتے ہیں۔ فیس بک پر چھائے ہوئے ہیں۔ انکا موٹو صاف ہے، جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے تو دھاندلی کا شور۔ حسن نثار کے پیرو ہیں تھوڑے بدتمیز ہیں مگر بچے ہیں۔
خاموش انقلاب – یہ طریقہ انقلاب میوزیکل انقلاب کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دو مختلف مکتبہ فکر نے اختیار کیا۔ اسکے تحت “وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں اتوں رولا پائی جاؤ” کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ یہ انقلاب صرف الیکشنوں کے ذریعے آتا ہے اور اکثر فوج کے آنے پر ہی رخصت ہوتا ہے۔
خودکش انقلاب – یہ طریقہ انقلاب ٹی ٹی پی اور ذیلی شاخوں نے متعارف کروایا۔ اسکے تحت جو بات نہ مانے، اچھا نہ لگے یا “ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق” وغیرہ جیسے کاموں کیلئے مخالف کو بمب سے اڑا دیا جاتا ہے۔ یہ اپنی طرز کا واحد انقلاب ہے جو اسلامی نظام کیلئے ہے اور انکے حملے بھی مساجد پر ہوتے ہیں، سینما ڈسکو نائٹ کلبز وغیرہ کو نہیں کچھ کہتے۔ اس طریقہ انقلاب کا صرف ایک فائدہ یہی ہے کہ آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔
کنٹینری انقلاب – یہ انقلاب گزشتہ برس ہی بلادِ کینیڈا سے امپورٹ کیا گیا ہے۔ یہ سب سے لیٹسٹ طریقہ انقلاب ہے اور اوپر بیان کیئے گئے تمام تر انقلابوں کی خوصیات برجہ اتم موجود ہیں۔ مثلاً عوامی انقلاب عوام کے پیسوں سے، غریب عوام کی مفت تفریح۔ یہ انقلاب ہانڈی کا ابال ہوتا ہے جیسے کالین بیچنے والے پٹھان 50000 سے شروع ہوکر 2500 میں فائنل کردیتے ہیں ویسی اس طریقہ انقلاب میں کومپرمائز کی بے پناہ گنجائش ہوتی ہے جو منالو مان جاتے ہیں۔ یہ انقلاب تھوڑا بدتمیز ضرور ہوتا ہے اسکی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ بیرونِ ملک سے آیا ہے اور یہاں کے طور طریقوں رواجوں موسم وغیرہ سے مانوس نہیں زیادہ۔ اسلامی تڑکے سے لیکر فتوے اور ڈانس سے لیکر آؤٹنگ تک کی تمام سہولیات اس طریقہ انقلاب میں موجود ہیں۔ جیسے برسات میں سیلاب آتا ہے ویسی آجکل ملکِ خدادا میں کنٹینری انقلاب آیا ہوا ہے۔ اسکے آتے ہی بہت سے برساتی ڈڈو بھی نکل آتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے انقلاب سے محفوظ فرمائے۔
اقوام ہر قسم کے حالات میں سے گزرتی ہیں اور پنپتی ہیں ہم بفضلِ خدا اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔ ہم بحیثیتِ قوم تماش بین تھے اور ہیں، ایسے ہی رہیں گے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ 71 میں ملک دولخت ہورہا تھا مگر ہم تماش بینی میں مصروف رہے، سیاست بچانے کے چکر میں ریاست بھینٹ چڑھا دی۔ بیان بازی الزام تراشی۔ سیاستدان تو ایک طرف سونے پہ سہاگہ ہماری قوم کے دانشور۔ انکی سیان پتی ہمیں لے ڈوبی۔ قادری صاحب کی ہی مثال لے لیں سب جانتے ہیں فراڈیئے ہیں پچھلے سال بھی آئے اور سال بھر کا راشن اکٹھا کرکے نکل گئے، یقیناً اس بار بھی ایسا ہی کریں گے، مگر ہم پھر بھی انکو میڈیا پر فل کوریج دے رہے اور ہمارے لیڈر و نام نہاد دانشور بغضِ معاویہ میں انکو گلے لگائے پھرتے ہیں۔
ملک میں لیٹریسی ریٹ آٹے میں نمک کے برابر ہے، کبھی کسی نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی، شعور نہیں ادراک نہیں اور رہی سہی کسر ان شعبدہ بازوں نے پوری کردی۔ جس ملک کے عوام انقلاب کیلئے قادری اور دانشوری کیلئے حسن نثار کے مرہونِ منت ہوں اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے وہاں ہر موسم کیساتھ نئے انقلاب کا آجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

Tahir-ul-Qadri and Doomsday Conspiracy


Originally Published on Pak Tea House.

Ok this comes in a little late as I was confused on 21st December about what to do. Tahir ul Qadri

Curse Mayan calendar for wrongly scaring the whole world for nothing, watch the movie 2012 again and laugh or consider it alright as self-claimed “Sheikh-ul-Islam” Prof. Dr. Tahir-ul-Qadri was “launched” in Pakistan on that day and in Nazir Naji’s words, after this incident we don’t need a separate doomsday.
Whole world almost gone crazy about probable occurrence of doomsday and did pre-emptive measures to counter the calamities and we Pakistanis, as always, welcomed the sugar coated calamity with arms wide open.

I personally don’t like to bother about ‘conspiracy theories’ but this matter is of slightly different nature. Mr. Qadri has been a controversial character ever-since he gained popularity back in early 90’s, first that dream, fake attack story, and then countless revelations that Sheikh-ul-Islam sb came up with time to time.

Qadri's Fatwa about interest
Qadri’s Fatwa about interest

Here’s a small story that I read in Ashfaq Ahmed’s Zavia-1. It goes like once a saint was travelling with one of his followers and they saw a snake, badly hurt and about to die. Saint picked up the snake, fed him, kept in safe custody until that snake came back to life and first thing he did, was bit saint’s hand. Saint calmly took him off his hands and continued travelling. Follower inquired about the incident, saint replied ‘it’s his way of expressing gratitude, all snakes bite regardless of how you deal them’. Story ends here and many readers would recall the first political stunt of Qadri sb when he accused Mian Nawaz Sharif of attacking him and whole episode was found fake (court’s remarks in link). I don’t support any party’s political agenda here just that Mian Sharif was the one who gave Tahir-ul-Qadri wings to fly and his son was the first person whom Qadri sb chose for character assassination. It doesn’t mean I called Mian Sb a saint or Qadri sb a snake, these were mere characters of the story to make my point. He might return the favor in similar manner in days to come.

Tahir-ul-Qadri who went in self-exile and moved to Canada for “research” purposes is known to twist facts and manipulate his own statements as and when required. This video, that I found online, is testimonial of the fact. He has done a great damage to the religion Islam ever since he got audience. He might be welcomed by ‘secular’ circles within the country but a common man never want such ‘enlightened moderation’ that is achieved on cost of one’s own identity and ideology. court's verdict

Now comes the part of Qadri’s return and agenda. He runs an NPO namely ‘Minhaj-ul-Qura’n’ which has many donors worldwide and this institution provides both religious and worldly education to students. Pakistani’s witnessed massive TV campaign about Qadri’s return and message with posters and banners well placed in all the places in major cities. Now the question arises, who is supporting Qadri? Who sponsored his campaign and bearing all other expenses? The message that Qadri gave is not new. As mentioned by honorable Nazir Naji sb in his urdu column on 22nd December, this slogan, with different versions, has been used before as well. All our dictators chanted the same slogan and needles to say what they did to Pakistan, so will Qadri sb, if God-forbid, he comes to power. Also his version of Government is beyond debate.

Political parties like MQM formally and PTI informally ‘embracing’ Qadri’s version and columnists like Hassan Nisar praising Qadri as if he’s long-waited Imam-Mehdi, gives a hint that Sheikh-ul-Islam is being backed/launched by uncle-sam. In my humble opinion, he’s just a ‘guest-appearance’ for an ‘item number’ or two, just to give whole story a boost and enhance ‘marketability’.

All I, or common people like me, can do is keep our eyes open and pray to Almighty that none of our political leaders fall prey to Qadri’s attractive words and derail the system for worst.

May Almight save us and our beloved country for Qadri sb’s conspiracy is no smaller than that of doomsday conspiracy

Tsunami and Pakistan


So the much talked about tsunami finally hit the ground. As expected there were a huge crowd boys, girls, old people, families groups and what not. The zest and conviction was worth-watching. I wasn’t there; I watched it all over television. But it felt like some kind of remaking of that Manto Park rally in Lahore, 1940. Something that’s going to change the history, or will become history itself, amazing feeling it was. Felt as if I am witnessing a historical event. These emotions aren’t out of love for Imran Khan or PTI. It’s all about the public. It’s all about the participants that were present there with all their enthusiasm and courage and the faith that they have in the party and its leadership. I have never been a supporter of PTI, I have my own reasons. As Justice (Rtd) Wajih ud Din mentioned today our grandparents used to share with us their memories of that Rally at Manto Park in 1940 or memories of how Pakistan came into being. Now witnessing this so called tsunami we’ll tell our children or grandchildren that we witnessed making of a new Pakistan. Today I noticed some good things that I would like to share.

Unity, Faith, Discipline:

Our beloved Quaid gave us the above lesson. I witnessed this in today’s rally. All the leaders individually mentioned it too. There were people from various ethnic backgrounds, social backgrounds, provinces races etc but all of them were united in their cause. There were Muslims, Hindus and Christians for one cause. This is what Pakistan always wanted. Unity: acceptance of other’s existence and respecting it. Faith, in their own-selves, faith of capacity to make something happen, faith that people had back in 1947. This nation was so undermined and cornered that they nearly lost all their self-confidence which is now backing into play. Thirdly, the discipline and the organization, it was so well disciplined. These are the same Pakistanis you’d see on streets and think they could never behave or they could never make a queue etc. As Imran Khan said “an idea, whose time has come”. It’s power of that very idea that made people to unite under one flag on a single platform. If I am not mistaken, that’s what the real change is. That long-lost “Pakistaniat” is returning back.

Concept of Equality:

When you claim to be against status quo, the first and foremost thing you need to ensure is equality, and that’s what we witnessed today. Different people from different social, economic, ethnic and religious backgrounds were equally treated. There were daily wagers and billionaires sitting in the same row. Then there were illiterate and PhD scholars, secular minded to religious ones. Everyone represented a different class and a different thought but all were equally welcomed and treated by PTI. This reminds me of Iqbal’s famous shair:

Aik hi suff mein kharay hogaye mahmood-o-ayyaz

Na koi banda raha aur na koi banda Nawaz

Zest, Enthusiam:

The enthusiasm and zeal & zest that were depicted at the site both by public and the leaders are infect the good news. Pakistani nation that everyone was predicting have lost the thrust of life hit back at large. It felt like Pakistan have won a world cup or have beaten India in a cricket match or that we’ve just had test nuclear explosions or that everyone has got surety of no-CNG/electricity load-shedding. Karachi, as rightly stated by Javed Hashmi, is in actual a Pakistan. It’s like a prototype of Pakistan. There was bloodshed, street crimes and what not but still people looked happy, they were full of energy and their body language conveyed a very positive message to everyone else in the country. If Karachi is smiling, we all will.

Public involvement in national matters:

People were so dis-connected with politics and all this idea of a revolution that they never really cared. But this credit goes to PTI that they’ve made people reconsider their options. People have started to care about national matters and are involving and engaging themselves in every possible way as if it’s not a national issue but their household issue. This is another positive sign; now people are ready change and accept the change. It’s about time to unleash the real agenda and take people into confidence, which Imran khan did during his address.

Innovation:

PTI has introduced innovation and gave a teaser of how un-orthodox its approach is. It can think out-of-the-box and can come-up with solutions yet unknown or unacceptable to public and politicians. The way PTI campaigned for this rally online and how the rally-site was well-equipped with latest technology was in itself a commendable organization also PTI’s belief in employing technology for its aid.

Empowerment and Accountability:

The concept of public empowerment and system that offers accountability is the need of time. Imran khan referred to ameer-ul-momineen’s style of governing. If he succeeds in pulling it off, Pakistan will be back on track in no time. They are empowering people now let’s see what do they do about accountability.

Conclusion:

I have always been criticizing PTI. But I was right in my opinion; I had my own questions that I got answered one by one.  Now that Imran Khan has got seasoned politicians on board and lot of public support, I would like to say that agencies or invisible hand can finance a rally, can make politicians join the party but they cannot make people love nor have faith in someone, they cannot make people to leave their homes for a cause. So, be it an agency’s idea but now it has become our national emotion, a national idea, a point of unification, people have chosen this and now Imran Khan and other leaders in the party aren’t left with any other option but to deliver.  So let’s look forward to it. Long live Pakistan.

Originall published on 29th Dec 2012 at http://abrarkureshy.blogspot.com/2011/12/tsunami-and-pakistan.html