اداس ہونے کا یہ موسم نہیں ہے


ابھی تو مرحلے اور بھی ہیں کٹھن کئی
اداس   ہونے   کا  یہ  موسم  نہیں  ہے
زمانے  بھر  کے  غم   ہیں  دامن  گیر
ہر  چند   اک   تیرا    غم    نہیں   ہے
کیا  بچھڑنے والے کی یاد  میں کڑھنا
کسی  کا  بھی ساتھ یہاں  پیہم نہیں ہے
شاید تو نے بھی فراموش کردیا مجھے
گریہ  میں  آج  وہ  لذت  غم  نہیں  ہے

abhi to marhaly aur bhi hain kathin kai
udaas honay ka ye mausam nahi hai
zamany bhar ke ghum hain daman gir
har chand ik tera ghum nahi hai
kya biccharny wale ki yaad mein kurrhna
kisi ka bhi sath yahan peham nahi hai
shayad tu ne bhi faramosh ker dia mujhe
girya mein aaj wo lazzat e ghum nahi hai
Advertisements

غزل | عمر بھر یونہی مجھے چاہتے رہنا


جیسے    اب    چاہتے    ہو    بے    سبب
عمر   بھر   یونہی   مجھے   چاہتے   رہنا
وقت   اک   سا    نہیں   رہتا  ،  پھر   بھی
عہد   جو   کیا   ہے  ،   وہ   نباہتے   رہنا
دل  ہے  کہ  دربار  شاہی  کا  وزیر کوئی
ہر  اک  ادا  کو  بے  وجہ   سراہتے  رہنا
وحشت   مقتل   نہیں  ,  توہین  محبت  ہے
ذرا  سی   چوٹ   کھا   کر  کراہتے  رہنا
ہم   ,   آشفتہ   سروں    کا  ,  کیا    کہئے
ضرب کھا کہ بھی دست قتل سراہتے رہنا

Jese ab chahte ho bey sabab
umr bhar yunhi mujhe chahty rehna
waqt ik sa nahi rehta phir bhi
ehad jo kiya hai, woh nibahty rehna
dil hai ke darbar-e-shahi ka wazir koi
har ik ada ko bey wajah sarahty rehna
wehshat-e-maqtal nahi, toheen e mohabbat hai
zara si chhot khaa ker karahty rehna
hum, ashufta sarun ka kya kahiye,
zarb khaa ke bhi dast-e-qatil sarahty rehna

گونگلواں دی مٹی


First published on 20th November 2012

 دراصل عزت ماب صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری کے دورہ و خطاب خیبر پختونخواہ سے متعلق ہے۔ پوسٹ کے عنوان کی وضاحت کرتا چلوں یہ ایک پنجابی محاورہ ہے جسے عرفِ عام میں کسی کو ٹالنے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جسے فرازؔ نے یوں بیان کیا

             اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے   ؎

اب دریا میں تلاطم ہے نہ سکوں ہے یوں ہے

خیر، ٹال مٹول میں تو الحمداللہ ہماری موجودہ حکومت اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ آج بہت سے تجزیہ نگار، جمہوریت کےٹھیکیدار اور سیاسی لیڈران و لوٹاگان صدر صاحب کے”جراتمندانہ” خطاب کو پاکستان اور جمہوریت کی تاریخ میں ایک اہم اور روشن باب سے عبارت کررہے ہیں، جبکہ میرا اور میرے جیسے بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کی رائے اس امر میں مختلف ہے۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانوں میں کسی کے گھر کی بالائی منزل کو آگ لگ گئی، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ صاحبِ مکان بالائی منزل کی بجائے نیچے والی منزل پہ ہی پانی کی بالٹیاں بھر بھر کے پھینک رہے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ بھائی آگ اوپر لگی ہے اور پانی تم نچلی منزل پہ ضائع کررہو۔ تو صاحبِ مکان بڑی دانشمندی سے بولے ‘بھائی اول تو یہ کہ یہاں سے جتنی بھی کوشش کرلوں اس منزل تک پانی نہیں پھینک سکتا، دوم یہ کہ اگر اوپر جا کر بجھانے کی کوشش کروں تو احتمال ہے کہ کہیں میں بھی آگ کی لپیٹ میں نہ آجاؤں، اور سوم یہ کہ میری اوپر والی منزل میں ایسا کچھ قیمتی سامان بھی نہیں کہ جل جائے تو پھر نہ بن سکے، بلکہ اگر یہ جلتا ہے تو اسکے بدل مجھے لوگ ازراہِ ہمدردی جو امداد فراہم کریں گے، اسکی مدد سے پہلے سے بہترسامان بناؤں گا’۔ سوال کرنیوالے نے پھر سوال کیا، اگر ایسا سے تو آرام سے جاکر گھر میں بیٹھ رہو، کیوں ناحق اپنی جان ہلکان کرتے ہو، اس پہ صاحبِ مکان بولا ‘وہ اس لئے کہ کل میں لوگوں کے سامنے اپنا دکھڑا رو سکوں کہ “دیکھو بھائیو میں نے اپنے تئیں تو بہت کوشش کی آگ بجھانے کی مگر وہ نہ بجھ سکی۔” اب ذرا زرداری صاحب کا حال ملاحظہ ہو۔ جب خیبر پختونخواہ میں سیلاب آیا، زرداری صاحب کراچی تشریف لے گئے، جب دہشتگردی ہوئی تو کبھی امریکہ کبھی دبئی اورایسے ہی ہر موقع پر کہیں نہ کہیں ضروری کام سے چلتے بنے۔ ملک میں کہیں آتشبازی بھی ہوتی تو صدر صاحب بمعہ عیال کراچی تشریف لیجاتے۔ اور ؔآج جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے تو صدر صاحب بجائے وہاؐں جاکر کوئی تسلی تشفی فرماتے، گونگلوؤں کی مٹی اتارنے خیبر پختونخواہ آگئے۔
اب یہ تو بات ہوگئی صدر کے جانے کی۔ وہاں جا کے خطاب جو کیا مجھے تواسکی سمجھ نہیں پڑی، جیسے وہ محاورہ ہے کہ “گونگے دی رمز نوں گونگا ہی جانے” (یعنی بے زبان کی بات بے زبان ہی سمجھ سکتا ہے) تو عین ممکن ہے کہ سیاسی طور پہ واعی زرداری صاحب نے چھکا مارا ہو جسے باقی سیاستدان ہی سمجھ سکتے ہوں۔ ایک واقعہ اس مد میں عرض کرنا چاہوں گا، اکثر و بیشترجمہوریت کے ذکر پہ ازراہِ تفنن سنایا جاتا ہے۔ ایک بار ایک شخص ساتویں منزل سے گرا، سر میں چوٹیں آئیں، وہ جانبر نہ ہوسکا اور مرگیا۔ سارے محلے میں ہائے توبہ مچ گئی، ایک سیانی بڑھیا نے جو لاش دیکھی تو قدرے اطمینان سے بولی، ارے شکر کرو آنکھ بچ گئی ہے۔ تو زرداری صاحب کے خطاب میں جو “جمہوریت” کا لفظ بار بار عود آتا ہے وہ دراصل یہی آنکھ ہے جو بدقسمتی سے بچ گئی ہے، کہ کرپشن کا رونا رونے والو، ملکی تنزلی اور بدحالی کا بین کرنیوالو، امن و امان کی صورتحال پہ پیچ و تاب کھانے والے نادانو، ذرا غور تو کرو، جمہوریت قائم ہے، اور خودی نہیں قائم بلکہ میری انتھک محنت اور کوششوں کے سبب قائم ہے۔ اور پھر ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردیتے ہیں کہ میری ہرگز یہ منشاء نہ تھی، بلکہ یہ تو بآمرِ ربی ہے، نہ بے نظیر رخصت ہوتیں، نہ مجھے موقع ملتا۔
اور جو بار بار بی بی شہید کا بدلہ “جمہوریت” کو مضبوط کرکے لیا۔ اب یہ تو کوئی طفلِ مکتب بھی بتا سکتا ہے کہ گارڈ آف آرنر کس کو دیا گیا اور بدلہ کس سے لیاجارہا ہے۔ صدر صاحب کا تقریباً مکمل خطاب اسرار و رموزِ جمہوریت کے گرد گھومتا ہے۔ اور اسی جمہوریت کا اعجاز ہے کے پورا پاکستان مر رہا ہے مگر بھٹو آج بھی زندہ و جاوید ہے اور سب لٹنے کے بعد بھی صد شکر کہ جمہوریت باقی ہے۔ ضیاء الحق نے شاید بھٹوکو پھانسی لگا کر ان سے اتنی زیادتی نہیں کی جتنی زرداری صاحب نے انکا نام لے لے کر کی ہے۔ اقبؔال کے اس شعر کے صحیح مفہوم اور اسکی عملی جوجیح کو اگر کوئی پہنچا ہے تو وہ ہمارے ہردلعزیز صدر صاحب ہیں:

 جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں     ؎

بندوں کو گنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے

تیسری بات جو غور طلب ہے وہ دیگر امور جن کو صدر صاحب دورانِ خطاب چھوتے گئے، وہ مخصوص سوچ کا ذکر ہے ، جو بقول زرداری صاحب بینظیر کی قاتل ہے، جبکہ چار سال پہلے تک تو محترمہ کے قاتل مشرف اور ق لیگ والے تھے، جو اب زرداری صاحب کو اپنی کرسی کی طرح عزیز ہیں۔ یا اس وقت زرداری صاحب غلط بیانی کررہے تھے یا اب، واللہ اعلم

نظم | کوئٹہ


گرد گرد منظر ہیں
زرد زرد چہرے ہیں
دیوار و در سے بے جھجک
افتادگی عیاں ہے
میرے شہر میں لوگ اب
اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں
مسکراہٹیں ندارد ، اب تو
بات بھی احتیاط سے کرتے ہیں
بین کرتی ماوں کی صدائیں
روز کا منظر بن چکی
نفرتیں سرایت ہیں چار سو
پنڈی سے کوئٹہ، خیبر سے کراچی
بے سمت ہو چکا ہے قافلہ
غپر اٹھائے پھرتا ہے علم
اوروں کی خاطر میں نے 
خود اپنے سر کئے قلم
میرا راہبر ہی راہزن نکلا
کہوں کس سے داستان  الم
مفت ملتی ہے جو سر بازار 
خدایا تیری دنیا میں  اب
!…وہ جنس ارزاں ہوئے ہیں ہم

نظم | میری محبت


میری محبت کوئلوں جیسی ہے
کہ جلتی بجھتی رہتی ہے
کبھی یہ گماں بھی ہوتا ہے
کہ کوئلہ بجھ چکا ہوگا
مگر پھر اچانک سے
ذرا سے ہوا کے جھونکے سے
سرخی دمکنے لگتی ہے
آگ بھڑکنے لگتی
پھر وہی حرارت ہوگی
ہھر وہی شرارت ہوگی
میری محبت اس ننھے بلب جیسی ہے
جو گھر کے باہر لان میں
مدتوں جلتا رہتا ہے
دن کو سورج کی روشنی میں
اوروں کی موجودگی میں
اسکی ہستی گم گم رہتی ہے
مگر جیسے ہی شام ڈھلتی ہے
آنگن میں اندھیرا ہوتا ہے
وہی ننھا منا بلب ہماری
راتیں روشن کرتا ہے۔۔۔

meri mohabbat ko’yalon jesi hai
ke jalti bujhti rehti hai
kabhi ye gumaan bhi hota hai
ke ko’yala bujh chuka hoga
magar phir achanak se
zara se hawa ke jhonkay se
surkhi damakney lagti hai
aag bharakney lagti hai
phir wohi hararat hogi
phir wohi shararat hogi
meri mohabbat uss nanhay bulb jesi hai
jo ghar ke bahir lawn mein
muddaton jalta rehta hai
din ko sooraj ki roshni mein
auron ki maujoodgi mein
uski hasti gum gum rehti hai
magar jese hi shaam dhalti hai
aangan mein andhera hota hai
wohi nanha munna bulb hamari
raaten roshan kerta hai

Iqbal: The forgotten Vision


As I updated my FB/BBM status to “Happy Birthday National Poet” like many of my other countrymen, a thought hit my conscience, how would Iqbal think of us remembering him only on his birthday? So here’s an imaginary letter, things that Iqbal would have said.

“Dear Son,

Thank you for your wishes. It means a lot, especially when half of your nation is still confused if it’s my birthday or death anniversary. It’s the only day of the year people remember me, write poems or articles, organize Conferences and Seminars about The Allama Iqbal, but

never bother to understand who Iqbal is. People know me as a mere poet. A poet whose greatest works are ‘cow & goat’, ‘Mother’s prayer’ and ‘Child’s dream’ etc, no one knows about Iqbal the philosopher, the orator, the poet of struggle, motivation, vision and Iqbal the leader. People have long forgotten Iqbal the vision of Pakistan.I know 90% of youth hardly read any of my works, so I write few of stanzas for reference, to re-establish my teachings, with translation in English because many of you can’t even read Urdu properly.

آ تجھ  کو بتاؤں تقدیرِ امم کیا ہے

تیغ و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر

[Let me tell you the secret of rise of the nations, struggle and hard-work first, rest & recreation later]

Pakistan wasn’t made the easy way. It took everything to establish the idea, convincing masses and making it the only identity we had. Pakistan’s identity was a nation that fought its way through. A nation that changed the course of history, made alterations to the world map, won the war of its survival on table. A nation that honored brotherhood cherishes culture & traditions and value education. An honest nation, true and great leaders, but alas, we lost it all. We lost it to our earthly desires.

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

[Your destination isn’t the Royal castle, you are a Shaheen, be on your toes all the time and strive for new heights]

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور شاہیں کا جہاں اور

[Both fly in this very sky, yet crows have their own world and shaheen has its own world]

   نیہں تفاوت الفاظ و معانی میں لیکن

ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور

[words are the same, but a Mujahid’s (whose in battlefield) prayer is way more stronger and passionate than a Mullah (whose is in peace)]

Pakistan was never about the Royals and their joys. It was an emblem of iqbal ka shaheencontinuous struggle with outer and inner mortals. I always wanted them to be like ‘Shaheen’. Shaheen is aliving example of excellence, he stays at heights, beyond earthly desires, struggles, is far-sighted, focused and consistent. Even being a bird, he still makes it different and superior. I wanted Pakistanis to be like this.

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے پھر بھی ہے حکمِ ازاں لاالہٰ الا اللہ

[Even if they have vested interests, my duty still remains the same]

I see ranting becoming a national habit. Everyone’s blaming other from top to bottom. First you fulfill your own duty, contribute as much as you can, forget about the rest. Do your part.

تجھے گر فقر و شاہی کا بتادوں

غریبی میں نگہبانی خودی کی

[Should I tell you the secret of spiritualism and ruling, ‘khudi’ is nourished in hard times]

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

[I am not a man of treasure, I have knowledge, never compromise on your ‘khudi (self)’ prefer hardships rather]

One cannot prosper unless they maintain their dignity and pride, and once they lose shame, they lose all. As said earlier, the idea of Pakistani nation was of a struggler, whose beyond earthly desires, who starves instead of bowing in front of enemies. But today it seems as if west is ideological forefathers of current political leaders.

فرد قائم دبط ِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

[Identity is just because of its relationship with the nation, nothing individually. Similarly a wave has an impact when in the ocean, nothing once it’s outside the sea]

Unity, faith and discipline was the great lesson taught by the great Quaid-e-Azam. 

But you have long forgotten that. And see most of the troubles you have created for yourself. Unity, discipline are the basic essence of a nation, their power and appeal. You have lost that. All I see divided and separated groups of people on basis of sects, creed, race, religion, politics and what not. That’s not how nations prosper, that’s the path for downfall rather. Pakistan has lost its identity, media propagates the wrong stereotypes hence making our youth believe Gandhi was a greater leader than Jinnah. Politicians and liberals claiming, Pakistan to be a political stunt, that went wrong. Youth has learned Indian bhajjans and adopted western ways that is damaging our culture and structure. And most threatening thing I came across the other day was the slogan of “perhne likhe ke siwa, Pakistan ka matlab kya” instead of “Pakistan ka matlab kya, la illaha illa Allah” an attempt on ideology of Pakistan.

This verse from my poem best describes my heartiest fears and nation’s condition. You are losing it day and night, yet you people don’t bother.

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

[Pity that nation kept losing all they had, for they lost the, ‘realization’ of losing it]

Son, I don’t need any appreciation or conferences or seminars in my honor,  I have seen enough respect, fame & honor as a poet in my life, all I wish for now is you to understand me, understand the message, know what is need of the time, instead of beating around the bush. And also please keep me away from today’s politics, for my vision, struggle and message is way beyond this politics.

Best Regards,

Muhammad Iqbal,

The forgotten Vision of Pakistan “

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ


Originally published on Dunya News Blog on 7th November 2012

گزرے زمانوں کی بات ہے، ایک گاؤں تھا۔ جس میں لوگ رہا کرتے تھے۔ ہر کلاسیکل کہانی کی طرح اس گاؤں میں بھی ایک چوہدری صاحب کی حویلی تھی، جو فی سبیل الله تمام اہلِ علاقہ سے بھتہ وصول کرتے، اپنی من مانی کرتے۔ جس سے دل کرتا الجھتے، جس پہ چاہتے الزام دھرتے۔ تھانہ کچہری بھی اپنی اور پنجائیت بھی اپنی۔ غرضیکہ ایک مکمل ولن صفت چوہدری صاحب تھے۔ اسی گاؤں میں کچھ گھر غریبوں مسکنیوں کے بھی تھے۔ غریبوں نے کبوتر پال رکھے تھے۔ بڑے چوہدری صاحب کا محبوب تین مشغلہ انکے کبوتروں کا شکار ہوتا۔ لاکھ پیچ و تاب کھانے اور تلملانے کے باوجود کوئی چوہدری صاحب کے سامنے جا کر احتجاج کی ہمت نہ کرتا، انکے مرتبے، رعب اور دبدبے سے ڈرتا اور اسی وجہ سے چوہدری صاحب سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہتے، انکی ہاں میں ہاں ملاتے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ چند سال بعد بڑے چوہدری صاحب چل بسے، مسکینوں نے اپنے گھر میں انکو خوب گالیاں نکالیں اور اپنے تئیں بہت ہمت والے بن گئے۔ چوہدری صاحب کے جس جانشین نے مسندِ اقتدار سنبھالا وہ بڑے صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا، وہ کبوتروں کے انڈوں سے نکلنے کا انتظار ہی نہ کرتا اور مسکینوں کے گھروں میں جا جا کر گھونسلوں سے انڈے ہی گرا گرا کر توڑ دیتا، اور الٹا مسکینوں کو سخت ڈانٹ بھی پلاتا۔ خیر، وقت کا پہیہ چلتا رہا، حتیٰ کہ اس چوہدری صاحب کا وقت بھی ختم ہوا۔ مسکین جو بہت اکتائے بیٹھے تھے، ایک بار پھر اکٹھے ہوئے، جوش ولولے کیساتھ پرانے عہد دہرائے گئے، انکے سیانوں نے پیشین گوئیاں کرنی شروع کردیں کہ فلانا بیٹا اگر سردار بنا تو ہمارا ہمدرد ہوگا اور کچھ نے کہا نہیں وہ نہیں دوسرا ہمارا والی وارث ہوگا، اسی اثناء میں ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے کہا، اوئے عقل کے اندھو، تمھیں اتنی نسلوں سے آج تک یہ اندازہ نہیں ہوا کہ انکے گھر کا جو بھی سردار ہوگا، تھمارا رکھوالا اور والی کبھی بھی نہ ہوگا، بلکہ پچھلے سے بڑھ کر ہی ہوگا ظلم و استبداد میں، خیر سیانے تو سیانے ہیں، انہوں نے بزرگ کی ایک نہ مانی اور لگے رہے سیان-پتی جھاڑنے۔

Obama Vs Romney

اب ذرا اسی قصے کو امریکی صدارتی الیکشن کے حوالے سے دیکھیں اور اندازہ کریں کہ کلنٹن، بش اور پھر اوبامہ ہمارے کتنے خیر خواہ رہے ہیں۔ اور رومنی یا اوبامہ میں سے کوئی بھی امریکی صدر بنے ہمارے لئے وہ اس گاؤں کا ظالم چوہدری ہی ہوگا، جسکی پنجائیت اپنی، تھانہ کچہری اپنا، اور شکار کا شوق، شکار بھی ہم مسکینوں کا! تو اب میں اپنے معزز میڈیا سے، اور اپنے انتہائی قابل تجزیہ نگاروں اور ان محبِ وطن پاکستانیوں سے جو صرف اس آس پر دعائیں کررہےہیں کہ اگر رومنی یا اوبامہ آئے گا تو ویزہ پالیسی نرم ہوگی یا پاکستان کے لیئے بہتری ہوگی اور انکو امیگریشن کا چانس مل سکے گا، پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ بھایئو، انکلو دوستو، کیا معنی آپکے تجزیے اور دعائیں؟ لوگ ایک دوسرے سے ایسے پوچھ رہے ہیں کہ آپ کس کو فالو کررہے ہو جیسے اوبامہ اور رومنی حلقہ این-اے 56، روالپنڈی سے الیکشن لڑرہے ہوں، اور ابھی وائیٹ ہاؤس سے “جیئے بھٹو” کے فلک شگاف نعرے بلند ہونگے۔ یا جیتنے والا امیدوار حلف اٹھاتے ہی خود کو مسلم امہ کا رکھوالا کہہ کر اپنے نام سے قبل “امیر المومنین” کا لقب لگائے گا۔
میرے پیارو، پہلی بات تو یہ ہے کہ ‘پاویں سارا پنڈ وی مر جاوے، کمہار دے منڈے نوں کدے چوہدراہٹ نئیں لبنی’ اور جو چوہدری سردار بنے گا، وہ چوہدریوں کے حقوق کا ضامن اور محافظ ہوگا، ہمارا نہیں۔ تو آپ خوامخواہ بیگانی شادی میں دیوانے مت بنیں، وقت بچائیں اپنے لئے قوم کیلئے۔ اور روسی ادیب سلوگب کا وہ افسانہ یاد کریں جس میں چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کو تڑی لگاتی ہے کہ ہمارے حقوق یکساں سے، تم مجھے نہیں کھا سکتی، تو بڑی مچھلی میں جواب دیا، اچھا، اگر تم مجھے کھا سکتی ہو تو تم کھا لو، اور اخیر میں چھوٹی مچھلی نے خود عرض کی بڑی مچھلی سے کہ بہن مجھے کھالے۔ ہم بجائے بڑی مچھلی سے پنگا کرنے کہ، اس سے دور ہی بھلے، اسکی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی۔ اللہ آپ پر، مجھ پر، اور ہم سب پر اپنی رحمت فرمائے۔ آمین

مایا


“ارے وہ دیکھو مور اپنے پر پھیلائے ناچ رہا ہے، کچھ بہت خاص ہے یہاں”

میں اپنے دھیان بیٹھا  سوچوں میں گم تھا کہ ایک خوشگوار اور مانوس آواز نے  مجھے چونکا کر اپنی طرف متوجہ کیا۔ میں نے پہلے آواز کی طرف دیکھا، بہت مانوس اور شناسا چہرہ تھا، پھر میں نے مور کی جانب دیکھا جو پر پھیلائے ناچ رہا تھا، واقعی بہت خاص نظارہ تھا، میں اس منظر میں کھو سا گیا، وہ منظر مجھے بہت سال پیچھے لے گیا، جب واپس وقت موجود میں آیا تو وہ آواز اور وہ چہرہ جا چکا تھا، ایسا دوسری بار ہوا میرے ساتھ کہ میں مور ناچ دیکھنے میں اتنا محو ہوا کہ اس میں شناسا چہرہ کھودیا۔

ایک دھندلا سا چہرہ نظروں کے سامنے منڈلایا، مسکراتا ہوا۔ اسکا خیال آتے ہی ہمیشہ مجھے محسن نقوی صاحب کی نظم کا یہ شعر یاد آجاتا ہے، جیسے محسن صاحب نے اسی کیلئے کہا ہو:

   وہ  لڑکی  بھی ایک  عجیب  پہیلی  تھی  ؎

       پیاسے ہونٹ تھے آنکھ سمندر جیسی تھی

وہ واقعی عجیب تھی۔ ان بہت چند لڑکیوں میں سے ایک تھی جنکی دانش، اور فہم و فراست انکے حسن پہ حاوی ہوتی ہے۔ یہی معاملہ اسکے ساتھ بھی تھا۔ وہ بہت سادہ رہتی مگر جاذبِ نظر لگتی تھی۔ اس میں بہت سے کمال تھے۔ مثلآ خاموش رہ کر بھی بات کہہ جانا، بظاہر سادہ سی رہ کر بھی خاص اور جدا نظر آنا، وہ ہمیشہ یہی تاثر دیتی جیسے وہ اپنی رائے قربان کرکے آپکی مان رہی ہے مگر یہ اسکا ہنر تھا کہ وہ اپنی بات بغیر کہے ایسے منوا لیتی کے خود سامنے والے کو بھی پتہ نہ چلتا۔ بظاہر محکوم بن کے رہتی مگر در پردہ حکومت کرتی۔ وہ ایسے دل موہ لینے والے انداز میں ہاں میں ہاں ملاتی کے نثار ہوجانے کو جی چاہتا۔ میں اتنے برس اسکے نہایت قریب رہ کر بھی اسے جان نہیں پایا۔ وہ بحث نہیں کرتی تھی۔ یہی اسکا سب سے بڑا کمال تھا۔ جیسے کہا ویسے مان لیا، ہاں دھیرے دھیرے ایسے اس معاملے کے بارے آپکی رائے بدلتی کہ فقط اسکی رائے باقی رہتی، یہ صبر طلب کام ہے، اور صبر و اطمینان کی تو جیسے اسکے اندر ندیاں بہتی تھیں۔

یا شاید کچھ بھی ایسا نہیں تھا جیسے میں سوچتا ہوں۔ اسکا میرا رشتہ نہایت عجیب سا تھا۔ وہ دید کا، وصال کا رشتہ نہیں تھا، وہ الفاظ کا، سماعت کا رشتہ تھا۔ وہ کنگ میکر تھی۔ اسنے نہ چاہتے ہوئے مجھےشاعر بنا دیا۔ میں تو خام تھا، اسی نے مجھ میں یہ ہنر ڈھونڈا، تراشا اور پھر اسکا کریڈٹ بھی میری ہی جھولی میں ڈال کہ چل دی۔ یا شاید اسے یہ الہام ہوگیا تھا کہ اسکے چلے جانے کے بعد یہی اظہار میرے لئے ناسٹیلجیا ہوگا، میرا ہمراز، میرا چارہ گر، میرا مرہم۔ اسکی ہر چیز کی طرح اسکا چاہنا، اسکا اظہار اسکا کچھ سکھانے کا طریقہ بھی عجیب تھا۔ وہ جب بہت خوش ہوتی تو خاموش ہوجاتی، اور جب بیحد خفا ہوتی تب بھی یہی کرتی۔ اس میں ویسے تو خود پسندی نام تک کو نہ تھی مگراکثر کہتی؛ یہ مت سمجھنا یہ سب تمھارا کمال ہے، جینئس کانٹیجیس ہوتی ہے، آگے تم سمجھدار ہو۔ جب بھی میری کسی کاوش کو سراہنا ہوتا تو کہتی،اچھی ہے، مگر تم اس سے بہتر کی کوشش جاری رکھو۔  وہ غیر محسوس طریقے سے ماحول پہ چھائی رہتی، مگر اس بات کا احساس کبھی اسکی موجودگی میں نہ ہوتا، وہ جب نہ ہوتی تو ایک کمی، ایک تشنگی سی ہوتی۔ اس میں یہ کمال تھا کہ وہ ہر جگہ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر لیتی اور اتنی پرفیکٹلی فٹ ہوجاتی کہ اسکا بدل ملنا ناممکن لگتا۔ میری زندگی میں بھی، بظاہر ایک دوست کی حیثیت سے تھی، مگر میری زندگی کے پزل کا مسنگ پیس بن گئی۔ اسکے ہونے سے میں نے خود کو اتنا مکمل نہیں سمجھا جتنا اسکے نہ ہونے سے خود کونامکمل محسوس کیا۔ وہ اپنی ذات میں صفر تھی، ایسا صفر جو ایک کے ساتھ مل جائے تو سو بنا دے اور ہزار سے ضرب کھائے تو اسکو بھی صفر کردے۔ مجھے نہیں یاد کے ہم کب کیسے کہاں ملے، بس اتنا یاد ہے کہ اسنے مجھ سے کہا ‘آپکی باتوں میں بہت کاٹ ہے، کھل کے بولا کریں’ اور پھر مجھ جیسا کم گو انسان گھنٹون اس سے اسی بات پہ بحث کرتا رہا۔ یہی اسکا کمال تھا، وہ بس کہہ دیتی تھی، اور ضروری نہیں کہ اسے اظہار کیلئے الفاظ کی خوشامد کرنی پڑے۔ اسے نان وربل کمیونیکیشن میں ملکہ حاصل تھا۔ اسکا مطالعہ کم تھا مگر آبزرویشن بہت کمال کی تھی۔ وہ حساس طبیعت تھی اور چھوٹی سے چھوٹی بات محسوس کرلیتی۔ مجھے جب بھی یہ گمان ہوتا کہ میں اسکو جان چکا ہوں تبھی اسکی زندگی کا کوئی مختلف اور انوکھا پہلو میرے سامنے منہ چڑھاتا آجاتا۔ مجھ جیسے خود پسند آدمی کو بغیر کچھ کہے بولے اسنے اپنی پر بات پہ قائل کیا، اپنے الفاظ میری زباں سے ادا کرواتی، اپنے احساسات کا ذکر میری شاعری کے ذریعے کرواتی۔

 جیسے ہر دو لوگوں کے بیچ ایک انوکھی اور اپنی الگ زبان اور کلام ہوتے ہیں، اسکے میرے درمیاں یہ انوکھی زبان خاموشی کی تھی۔ اکثر گھنٹوں ہم خاموش بیٹھے رہتے، مگر ہزاروں باتیں کرجاتے۔ اور یہ عجیب کیمسٹری مزیدار بھی تھی، اسکی خاموشی سے مجھے پتہ چلتا کہ وہ خوش ہے، خفا ہے، کچھ کہنا چاہتی ہے۔ اور زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ خاموشی کا جواب اسکو گفتگو میں چاہیئے ہوتا۔ میں کبھی اسکا اور اپنا رشتہ سمجھ نہ پایا۔ میں اکثر اس سے پوچھتا کہ میں کون ہوں، کیا ہوں، آج ہوں، کل ہوں کیا ہوں میں؟ مگر جواب ندارد۔ فقط ایک بار اسنے کہا، مجھے نہیں پتا تم کون ہو، مگر کچھ ہو ضرور جو میری زندگی میں شامل ہو، میرے قریبوں میں۔

  اسکا اعتقاد بھی عجیب تھا کہ محبت ظاہر کرنے سے اپنا حسن کھو دیتی ہے۔ بے معنی اور بے وقعت ہوجاتی ہے، محبت جب تک مستور رہے، اسکا حسن، اسکی جاذبیت تب تک ہی برقرار رہتی ہے۔ شاید یہی ٹھیک ہو۔ وہ کہتی تھی محبت میں سود و زیاں نہیں دیکھا کرتے۔ محبت بدلے سے پاک ہوتی ہے۔ اگرمیں اس وجہ سے تم سے محبت کروں کہ تمھیں مجھ سے محبت ہے تو وہ تو سودا ہوا۔ میں محبت کروں یا نفرت، اسکا تمھاری محبت، تمھارے جذبات پہ کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئیے۔ وہ بولی ریس کے گھوڑے کی طرح، محبت کا اندازہ بھی ہارنے کے بعد ہوتا ہے۔ اگر صرف خوشبو تک، یا اسکی خاطر پھول سے پیار رہا تو وہ محبت نہیں، مقصد ہے اور یاد رکھنا، محبت میں مقصدیت نہیں ہوتی”

مگر میرا ہیجان، میرے جذبات تو اس معاملے میں امجد اسلام امجد کی اس نظم کے مصداق تھے

محبت کی طبیعت میں  ؎

 اور اسکی آنکھوں میں مجھے پہلی بار خوف محسوس ہوا۔ وہ شام بڑی عجیب تھی، ہم دونوں سڑک پہ ٹہلتے جارہے تھے، اس نے کہا محبت بندر کا تماشا نہیں جو گلی گلی ہو، یہ تو مور ناچ ہے، جو سنسان جنگل کی خلوتوں میں ہوتا ہے، اور جس کے نصیبوں میں ہو، اسی کو اس کا نظارہ ہوتا ہے مگر یہ منظر مستقل نہیں رہتا، اور ذرا دورجنگل میں مور اپنے پنکھ پھیلائے ناچ رہا تھا۔ واقعی بہت خاص نظارہ تھا۔ میں اس منظر میں کھو سا گیا، جب واپس وقتِ موجود میں آیا تو وہ منظر بدل چکا تھا، وہ شناسا چہرہ کھو چکا تھا۔ اور میں نے ایک راز پا لیا تھا، جس کو وہ خوشبو اور پھول کہتی تھی اور امجد صاحب کی زبان میں

ہم تم نہ رہے ہوتے جو باہم ایسے


ہم   تم   نہ   رہے   ہوتے   جو   باہم   ایسے
بھلا  ہنس  کے  کیونکر سہہ لیتے ستم ایسے
درد ِ  دل  تو کیا ، وہ  دل ہی  نہیں رہا  جاناں
زود  اثر ، تیری  آنکھوں  کے ، مرہم  ایسے
چاندنی رات ،  ہلکی  بوندیں اور تمھارا ساتھ
ہمارے  نصیب  میں  کہاں  ہیں موسم  ایسے
مجبوریاں  ہی  ہونگیں  ترک ِ تعلق  کا سبب
کہنے  کو  تو ورنہ ، تم  ایسے  نہ  ہم ایسے
خلشِ دل بھی عنایت تمھاری رفاقتوں کی ہے
کیسے جھوم اٹھتی شعروں  پر یہ بزم  ایسے
hum tum na rahy hotey jo baham aese
bhala hans ke kyun ker seh lete sitam aese
dard-e-dil to kya, wo dil hi nahi raha jana’n
zood asr, teri aankhon ke marham, aese
chandni raat, halki bonden aur tumhara sath
hamare naseeb mein kahan hain mausam aese
majboorian hi hongi tarq-e-taluq ka sabab
kehne ko tu werna, tum aese na hum aese
khalish-e-dil bhi inayat tumhari rafaqaton ki hai
kese jhoom uthti she’ron per ye bazm aese